Share This Article
لاہور کے تاریخی علاقوں اور سرکلر گارڈن کی بحالی کا 60 ارب روپے کا منصوبہ شہر کی ترقی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا تھا، تاہم یہ منصوبہ اس وقت تاخیر کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری اداروں کے درمیان ناقص ہم آہنگی، انتظامی مسائل اور قانونی رکاوٹیں اس تاخیر کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف منصوبے کی رفتار کو متاثر کیا ہے بلکہ شہریوں اور ماہرین میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
منصوبے کا مقصد لاہور کے تاریخی مقامات کو محفوظ بنانا، بنیادی ڈھانچے کو بہتر کرنا اور شہر کی خوبصورتی کو بحال کرنا ہے۔ اس میں اندرونِ شہر کے قدیم علاقوں کی تزئین و آرائش، سڑکوں کی بہتری، نکاسی آب کے نظام کی اصلاح اور سرکلر گارڈن کے گرد ترقیاتی کام شامل تھے۔ یہ اقدامات شہر کے تاریخی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے اسے جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے تجویز کیے گئے تھے۔
تاہم، مختلف محکموں کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم اور منظوری کے مراحل میں تاخیر کے باعث کام کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ بعض امور پر قانونی پیچیدگیاں بھی سامنے آئی ہیں، جن کے حل کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک تمام متعلقہ ادارے ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام نہیں کریں گے، اس طرح کے بڑے منصوبوں کی تکمیل مشکل ہو سکتی ہے۔
شہری حلقوں اور سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرے، کیونکہ لاہور کا اندرونِ شہر نہ صرف تاریخی اہمیت رکھتا ہے بلکہ سیاحت کے لحاظ سے بھی بہت اہم ہے۔ اگر بحالی کے کام بروقت مکمل ہو جائیں تو یہ علاقہ مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بن سکتا ہے، جس سے معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔
دوسری جانب کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ تاریخی علاقوں میں ترقیاتی کام کرتے وقت احتیاط اور منصوبہ بندی انتہائی ضروری ہوتی ہے تاکہ قدیم عمارتوں اور ثقافتی ورثے کو نقصان نہ پہنچے۔ ان کے مطابق اس قسم کے منصوبوں میں تکنیکی جائزہ، شفاف عملدرآمد اور مسلسل نگرانی لازمی ہے۔ اگر ان پہلوؤں پر توجہ دی جائے تو نہ صرف تاخیر کم ہو سکتی ہے بلکہ معیار بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام اس منصوبے کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور مختلف سطحوں پر اجلاس بھی منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ تمام قانونی اور انتظامی مسائل حل ہونے کے بعد کام دوبارہ تیزی سے شروع ہو جائے گا۔
مجموعی طور پر یہ منصوبہ لاہور کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنایا جائے اور فیصلوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔ شہر کے تاریخی ورثے کی بحالی نہ صرف ثقافتی اعتبار سے اہم ہے بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتی ہے۔
