کوریا کے سائنسدانوں نے ایک انقلابی طریقہ دریافت کیا ہے جس کے ذریعے نقصان دہ ٹیومر خلیات کو دوبارہ نارمل اور صحت مند خلیات میں بدلا جا سکتا ہے۔ اس طریقۂ علاج میں خلیات کو ختم کرنے کے بجائے انہیں دوبارہ پروگرام کیا جاتا ہے، جو مستقبل میں کینسر کے علاج کے بارے میں ایک بالکل نیا تصور پیش کرتا ہے۔ یہ دریافت اس بات کو نمایاں کرتی ہے کہ سائنسدان خلیات کے بنیادی رویّوں کو کس قدر گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ زیادہ محفوظ اور مؤثر حل سامنے لائے جا سکیں۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے ان سگنلز کا مطالعہ کیا جو خلیات کو خراب ہونے کی طرف لے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایسے راستے (pathways) دریافت کیے جنہیں فعال کر کے خلیات کے نارمل افعال بحال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ عمل کینسر کو اس کی جڑ سے روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں خلیاتی غلطیوں کو درست کیا جاتا ہے، نہ کہ انہیں جارحانہ طریقوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اگر آئندہ تحقیق میں ان نتائج کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ دریافت نرم، زیادہ درست اور کم مضر اثرات والے علاج کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ اس نوعیت کی پیش رفتیں ظاہر کرتی ہیں کہ طبی سائنس مسلسل نئی حدود کو عبور کر رہی ہے، اور ہر نئی سمجھ بوجھ ہمیں اس کے قریب لے جا رہی ہے کہ انسانی جسم خود کو کیسے بہتر انداز میں ٹھیک کر سکتا ہے۔
