سڈنی: آسٹریلیا کے لیورپول اسپتال نے طبّی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے ایم آر آئی گائیڈڈ کریوابلیشن (MRI-Guided Cryoablation) ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے، جس کے ذریعے اب ٹیومر کا علاج بغیر کسی آپریشن کے ممکن ہو گیا ہے۔
یہ جدید طریقہ علاج ٹیومر کو منجمد (فریز) کر کے ختم کرتا ہے، جس سے مریض کو نہ صرف شدید تکلیف سے نجات ملتی ہے بلکہ صحت یابی کا عمل بھی پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو جاتا ہے۔ ایم آر آئی کی مدد سے ڈاکٹرز انتہائی درستگی کے ساتھ ٹیومر کے مقام کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جس سے صحت مند بافتوں کو نقصان پہنچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔
اس طریقۂ علاج کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ بزرگ اور ہائی رسک مریضوں کے لیے ایک محفوظ متبادل فراہم کرتا ہے، خصوصاً اُن مریضوں کے لیے جو بڑے آپریشنز کے قابل نہیں ہوتے۔ کریوابلیشن اُن ٹیومرز کے لیے بھی مؤثر ثابت ہوئی ہے جو ریڑھ کی ہڈی، پیڑو (pelvis) یا جسم کے دیگر نازک حصوں میں واقع ہوتے ہیں جہاں روایتی سرجری خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تکنیک جدید دور کی کم سے کم تکلیف دہ (minimally invasive) علاجی حکمتِ عملیوں میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اسپتال کے سینئر ریڈیولوجسٹ کا کہنا تھا کہ “یہ ٹیکنالوجی اُن مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے جن کے لیے پہلے علاج کے محدود مواقع موجود تھے۔ اب ہم زیادہ درستگی، کم تکلیف اور تیز تر صحت یابی کے ساتھ علاج کر سکتے ہیں۔”
لیورپول اسپتال کی یہ پیش رفت جدید طب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جو مستقبل میں درد سے پاک اور مؤثر علاج کے نئے دور کا آغاز کرے گی۔
