بالوں کے گرنے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تائیوان کے محققین نے ایک نئی تحقیق میں ایسے قدرتی مرکبات اور جدید ڈیلیوری ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا ہے جو غیر فعال بالوں کے روم کو دوبارہ متحرک کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ابتدائی تجربات میں کچھ رضاکاروں نے چند ہفتوں کے اندر بالوں کی موٹائی اور بڑھوتری میں بہتری کی اطلاع دی ہے۔
محققین کے مطابق اس طریقے میں نہ تو سرجری شامل ہے اور نہ ہی ہارمون تھراپی، اور اسے زیادہ نرم اور کم سائیڈ ایفیکٹس رکھنے والا سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اور اسے “گنج پن کا حتمی علاج” قرار دینے کے لیے بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز اور مزید شواہد درکار ہیں۔
بالوں کا جھڑنا جینیاتی عوامل، عمر، تناؤ یا صحت کے مسائل کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے، اور کسی بھی نئے علاج کے مؤثر ہونے کا دارومدار انفرادی صورتحال پر ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیق میں یہی نتائج برقرار رہے تو یہ طریقہ بالوں کے مسئلے سے پریشان افراد کے لیے ایک نیا اور امید افزا آپشن ثابت ہو سکتا ہے۔
