روس نے ایک تجرباتی کینسر ویکسین تیار کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اسے مریضوں کو مفت فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس ویکسین کا مقصد مدافعتی نظام کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ کینسر کے خلیات کو پہچان کر ان پر حملہ کرے، تاکہ رسولی کے بڑھنے یا پھیلنے کو روکا جا سکے۔
روسی محققین کے مطابق یہ طریقۂ علاج روایتی کیموتھراپی سے مختلف ہے، کیونکہ کیموتھراپی میں صحت مند خلیات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، یہ ویکسین جسم کے اپنے دفاعی نظام کو تربیت دیتی ہے کہ وہ خاص طور پر کینسر سے متعلق نشانات کو نشانہ بنائے۔
ابتدائی تحقیق اور آزمائشوں میں حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں، جن میں رسولی کی رفتار میں کمی اور روایتی علاج کے مقابلے میں کم مضر اثرات شامل ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کی حفاظت اور مؤثریت کی تصدیق کے لیے بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز اور آزادانہ جانچ ضروری ہوگی۔
روسی حکام نے کہا ہے کہ اگر یہ ویکسین کامیاب ثابت ہوئی اور باقاعدہ منظوری حاصل کرلی، تو اسے مفت فراہم کیا جا سکتا ہے، جس سے اس تک عالمی سطح پر رسائی ممکن ہو سکے گی۔
اگرچہ اس اعلان نے دنیا بھر میں امید اور دلچسپی پیدا کی ہے، لیکن طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کینسر ویکسینز ابھی تحقیق کے ابتدائی مراحل میں ہیں اور وسیع پیمانے پر استعمال سے پہلے مزید سائنسی کام درکار ہوگا۔
