ایتھوپیا کے ہائلی گبی آتش فشاں نے تقریباً 12,000 سال بعد پہلی بار پھٹ کر شمال مشرقی علاقے میں دھویں اور راکھ کے ستون بلند کر دیے، جس کے اثرات سرخ سمندر کے پار یمن اور عمان تک پہنچ گئے۔ دھواں اور راکھ کے بادل تقریباً 14 کلومیٹر تک فضا میں بلند ہوئے اور ان کے اثرات ہندوستان اور شمالی پاکستان تک بھی دیکھے گئے۔
علاقائی اہلکار محمد سید نے بتایا کہ ابھی تک کسی انسانی جان یا مویشی کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم راکھ کی موٹی تہہ کی وجہ سے مقامی مویشی پالنے والے خاندانوں کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی گاؤں راکھ سے ڈھکے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے جانوروں کے لیے چارہ کم دستیاب ہے۔
ہائلی گبی آتش فشاں تقریباً 500 میٹر بلند ہے اور رفٹ ویلی میں واقع ہے، جو زمین کی سب سے فعال زمینی سرگرمیوں میں سے ایک ہے جہاں دو ٹیکٹونک پلیٹس آہستہ آہستہ ٹکراتی اور جدا ہوتی ہیں۔ سمتھسونیئن انسٹی ٹیوٹ کے گلوبل والکینزم پروگرام اور ماہر آتش فشاں سائمن کارن کے مطابق ہائلی گبی کا یہ پھٹنا ہولوسین دور میں پہلی بار ہوا ہے، یعنی پچھلے 12,000 سال میں اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔
مقامی رہائشی احمد عبدلہ نے بتایا کہ دھماکے کے وقت ایک شدید صدمے کی طرح محسوس ہوا، جیسے کوئی بم پھٹا ہو اور راکھ اور دھواں ہوا میں پھیل گیا۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں بھی ایک موٹا سفید دھواں بلند ہوتا دکھائی دیا، جس کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔
والکینک ایش ایڈوائزری سینٹر (VAAC) کے مطابق آتش فشاں سے اٹھنے والے راکھ کے بادل یمن، عمان، بھارت اور شمالی پاکستان تک پہنچے، جس سے خطے میں فضائی صورتحال اور مقامی ماحول متاثر ہو سکتا ہے۔
آفار علاقہ زمین کی سب سے زیادہ فعال اور زلزلہ خیز پٹیوں میں سے ایک ہے، جہاں زمین کی حرکت اور ٹیکٹونک پلیٹس کی وجہ سے اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں، اور یہ نادر تاریخی واقعہ مقامی اور عالمی سطح پر سائنسی دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔
