معروف صحافی عباس جعفری نے کراچی کے گُل پلازہ واقعہ کے تناظر میں ایک دردناک مشاہدہ شیئر کیا:
“ہمارے ہاں عمارت کے مکمل جل جانے کو آگ پر قابو پانا کہتے ہیں اور لائشن نکالنے کے عمل کو ریسکیو۔”
عباس جعفری کے اس بیان میں ریسکیو آپریشن اور آگ بجھانے کے عمل کے درمیان فرق کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب کوئی عمارت مکمل جل جائے تو آگ پر قابو پا لیا گیا، حالانکہ اصل خطرہ اور انسانی زندگی کی حفاظت ریسکیو آپریشن میں مضمر ہوتی ہے۔
واقعے کی تلخ یادیں
گُل پلازہ کراچی کے حادثے نے نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کی یاد دلا دی بلکہ ریسکیو اداروں کی اہمیت اور فرائض پر بھی سوالات اٹھائے۔ عباس جعفری کی پوسٹ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسانی جان بچانا سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے، چاہے آگ پر قابو پانے میں کامیابی حاصل ہو جائے۔
عوامی اور سوشل میڈیا ردعمل
سوشل میڈیا پر صارفین عباس جعفری کے بیان سے متفق نظر آ رہے ہیں، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ریسکیو کے عمل کو آسان یا معمولی نہ سمجھا جائے۔ حادثات کے بعد عوامی شعور میں اضافہ اور حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
