پنجاب میں صوبائی حکام نے تجارتی تھیٹر شوز میں غیر سنسر شدہ اور ممنوعہ گانوں پر پرفارم کرنے والی 10 اسٹیج اداکاراؤں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے صوبے بھر میں ثقافتی مواد سے متعلق قوانین پر عملدرآمد تیز کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صائمہ چوہدری، افشاں خان، اقرا خان، حسنہ جٹ، سمر ملک، معصومہ ملک، جیا چوہدری، پھول چوہدری، ثنا ملک اور چاہت چوہدری کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔
حکام نے تمام اداکاراؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو دن کے اندر تحریری وضاحت جمع کرائیں کہ ان کے خلاف مزید تادیبی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔
یہ کارروائی پنجاب کونسل آف دی آرٹس کی جانب سے کی گئی ایک جامع ای-مانیٹرنگ جائزے کے بعد سامنے آئی، جس میں متعدد اسٹیج پرفارمنسز کو منظور شدہ مواد کی ہدایات اور عوامی تفریح سے متعلق معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا گیا۔
یہ عملدرآمد پنجاب حکومت کی وسیع تر ثقافتی ضابطہ کاری مہم کا حصہ ہے۔ جنوری 2026 میں حکام نے 132 پنجابی تھیٹر گانوں پر باضابطہ پابندی عائد کی تھی، یہ مؤقف اپناتے ہوئے کہ ان کے بول اور موسیقی “غیر اخلاقی، فحش یا اشتعال انگیز” ہیں اور تھیٹر کے ایس او پیز کے منافی ہیں۔
حالیہ مہینوں میں پنجاب آرٹس کونسل اور محکمہ اطلاعات و ثقافت کی جانب سے لاہور اور دیگر اضلاع کے تھیٹروں کو ممنوعہ گانوں کی فہرستیں بھی جاری کی جا چکی ہیں، جبکہ مانیٹرنگ ٹیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پرفارمنس کے دوران ممنوعہ مواد کی منظوری روکیں۔
پنجاب حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد تھیٹر میں خاندانی تفریح کو فروغ دینا اور ثقافتی اقدار کو برقرار رکھنا ہے۔ اس سے قبل بھی خلاف ورزیوں پر اداکاروں اور تھیٹر مالکان کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے اور بعض کیسز میں تاحیات پابندی تک پر غور کیا گیا۔
