دبئی ایئر شو 2025 کے دوران تیجس ایم کے-1 اے طیارے کے افسوسناک حادثے — جس میں ایک بھارتی جنگی پائلٹ جان سے گیا — کے بعد آرمینیا نے 1.2 ارب ڈالر مالیت کے مجوزہ خریداری معاہدے کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت آرمینیا کو 12 سے 20 فائٹر جیٹس فراہم کیے جانے تھے۔
بین الاقوامی دفاعی ذرائع کے مطابق، اس فیصلے کی بنیادی وجہ طیارے کی قابلِ اعتماد کارکردگی، آپریشنل سیکیورٹی اور فلائٹ کنٹرول سسٹم سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش ہے۔
تیجس، جسے ایک وقت میں سستا اور مؤثر ملٹی رول ایکسپورٹ فائٹر کہا جاتا تھا، اب عالمی سطح پر نمایاں دباؤ اور سوالات کا سامنا کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام بھارت کی دفاعی برآمدات کے لیے شدید دھچکا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب نئی دہلی مختلف ممالک میں تیجس کو بھرپور انداز میں فروغ دے رہا تھا۔
حادثے کے بعد سامنے آنے والی اہم تشویشات میں شامل ہیں:
طیارے کے فلائٹ کنٹرول سسٹم کی کارکردگی
مرمت اور دیکھ بھال کے معیارات
سخت موسمی اور آپریشنل حالات میں طیارے کی کارکردگی
تربیت اور لاجسٹک سپورٹ کی بھارتی صلاحیت
ماہرین کا کہنا ہے کہ آرمینیا کا یہ فیصلہ دیگر ممکنہ خریداروں کے لیے بھی اثرات رکھ سکتا ہے، جو تیجس کا مقابلہ چین، یورپ اور امریکا کے جدید فائٹر طیاروں سے کر رہے ہیں۔
بھارت نے حادثے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ تیار کنندہ ادارہ HAL ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد تکنیکی وضاحت جاری کرے گا۔
