Share This Article
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعہ کے روز نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ فرانس کی جانب سے بحیرۂ روم میں روسی تیل بردار جہاز (آئل ٹینکر) کو تحویل میں لینا ہے۔ اس کے علاوہ ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی اور قازقستان میں تیل کی پیداوار میں رکاوٹوں نے بھی سپلائی خدشات کو ہوا دی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو ایک بار پھر خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس نے عالمی خام تیل کی سپلائی میں خلل ڈالا تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔ ان بیانات کے بعد مارکیٹ میں بے یقینی بڑھی اور قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ کے مارچ ڈیلیوری کے فیوچرز 1.68 ڈالر یا 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 65.74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ پاکستان وقت کے مطابق شام 7 بج کر 10 منٹ پر برینٹ آئل 2.54 فیصد اضافے کے ساتھ 65.69 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 1.63 ڈالر یا 2.8 فیصد بڑھ کر 60.99 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ بعد ازاں WTI 2.56 فیصد اضافے کے ساتھ 60.88 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
ماہرین کے مطابق دونوں عالمی بینچ مارکس رواں ہفتے 2 فیصد سے زائد ہفتہ وار اضافے کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس کی بنیادی وجوہات جغرافیائی سیاسی تناؤ، تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹیں اور پیداواری مسائل ہیں۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور سپلائی متاثر ہوتی رہی تو آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
