پاکستان سپر لیگ کی مقبول ترین فرنچائز ملتان سلطانز کے سابق مالک علی خان ترین نے ایک بھرپور اور جذباتی پیغام کے ذریعے ٹیم سے اپنی رخصتی کا اعلان کیا۔ یہ پیغام انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (ٹوئٹر) پر جاری کیا، جس نے مداحوں کے دلوں میں ایک گہرا تاثر چھوڑا۔
“یہ میرا الوداع ہے” — ترین کا دو ٹوک اعلان
علی خان ترین نے اپنے بیان کا آغاز ملتان سلطانز کے مداحوں کو مخاطب کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ اس ٹیم کا حصہ ہونا ان کی زندگی کے سب سے بڑے اعزازات میں سے ایک رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں نہ صرف ٹیم بلکہ جنوبی پنجاب کے عوام سے بھی بے پناہ محبت ہے — وہی خطہ جس کی نمائندگی پر ان کے مرحوم چچا عالمگیر ترین کو بھی بےحد فخر تھا۔
کھلاڑیوں کے لیے خصوصی پیغام: “ہار قبول ہے، ہار ماننا نہیں”
اپنے پیغام میں علی ترین نے بتایا کہ وہ ہر سیزن اپنے کھلاڑیوں اور اسٹاف کو جنوبی پنجاب کی اصل روح سمجھاتے تھے — ایک ایسا خطہ جہاں لوگ محنت کرتے ہیں، اپنے حقوق کے لیے لڑتے ہیں اور ہر روز مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا:
“فینز آپ کو ہارنے پر تو معاف کر دیں گے، مگر لڑائی چھوڑنے پر کبھی نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہی سوچ ٹیم کی بنیاد رہی اور اسی عزم نے میدان کے اندر اور باہر ہر فیصلے کو متاثر کیا۔
مالی نقصان کے باوجود وابستگی برقرار
علی ترین نے اعتراف کیا کہ مسلسل مالی خساروں کے باوجود انہوں نے کبھی ٹیم چھوڑنے کا نہیں سوچا۔ ان کے مطابق ملتان سلطانز ہمیشہ ان کے لیے محض کاروبار نہیں تھا بلکہ اس سے ان کی جذباتی وابستگی بہت گہری تھی۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اس ٹیم کی حفاظت کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار رہے۔
اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم
اپنے بیان میں علی ترین نے کھل کر کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ “سب کے پسندیدہ نہیں”، لیکن وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ایمانداری سے بات کرتے رہے ہیں۔
ان کے مطابق:
“میں نے کبھی سیف کھیلنے یا حالات کے مطابق زبان بند رکھنے کا فن نہیں سیکھا… اور اگر ٹیم میں رہنے کا مطلب میرے اصولوں پر سمجھوتہ کرنا ہے، تو میرے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے۔”
یہیں وہ فیصلہ کن جملہ سامنے آیا:
“میں گھٹنوں کے بل چل کر اس ٹیم کو چلانے سے بہتر سمجھتا ہوں کہ اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر اسے کھو دوں۔”
مداحوں کے لیے جذباتی الوداع: “یہ ٹیم مالک کی نہیں، آپ کی ہے”
اپنے پیغام کے اختتام پر علی خان ترین نے مداحوں کو واضح پیغام دیا کہ ملتان سلطانز ہمیشہ سے اس کے مالک سے بڑا ادارہ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ ٹیم مداحوں اور جنوبی پنجاب کی ملکیت ہے۔
انہوں نے گزارش کی کہ مستقبل میں جو بھی مالک آئے، مداحوں کو اس ٹیم کی حمایت اسی جذبے سے جاری رکھنی چاہیے۔
آخر میں انہوں نے لکھا:
“آپ مجھے آئندہ بھی اسٹیڈیم کی نشستوں پر ان کی حمایت کرتے دیکھیں گے۔”
PSL کمیونٹی کا ردِعمل
علی ترین کے اس اعلان نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی۔ مداحوں نے ان کے جذبے، اصول پسندی اور ملتان سلطانز کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ بہت سے لوگ ان کی قیادت کو ٹیم کے سنہرے دور کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
