اسلام آباد: حکومت پاکستان نے مالی مشکلات کا شکار قومی ائیرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی بحالی کے لیے نجکاری کے بعد 80 ارب روپے کے استحکام پیکج کی تیاری کا عندیہ دے دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پی آئی اے کے 75 فیصد حصص نیلام کیے جائیں گے، جبکہ حاصل ہونے والی رقم کا بڑا حصہ ائیرلائن کی بحالی پر خرچ کیا جائے گا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بولی سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے کی تنظیمِ نو اور بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ تاہم، نجکاری کے باوجود ائیرلائن کو آپریشنل استحکام اور نئے طیاروں کی شمولیت کے لیے تقریباً 80 ارب روپے کی مزید ضرورت رہے گی۔
حکام کے مطابق پی آئی اے اس وقت 18 طیارے آپریٹ کر رہی ہے، جبکہ فلیٹ میں توسیع کے لیے نئے سرمایہ کی اشد ضرورت ہے۔ نجکاری کے عمل میں صرف پی آئی اے کا بنیادی ایوی ایشن بزنس شامل ہوگا، جبکہ نیویارک میں واقع روزویلٹ ہوٹل جیسے اثاثے حکومتی تحویل میں ہی رہیں گے، جنہیں ممکنہ طور پر جوائنٹ وینچر کے ذریعے ترقی دی جائے گی۔
بولی کے لیے ریفرنس پرائس تاحال حتمی نہیں کی گئی۔ سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ نے بتایا کہ سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی بنیاد پر 100 فیصد تک حصص فروخت کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ ماضی میں نجکاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں، جن میں 33 ارب روپے کی واجبات اور ٹیکس سے متعلق مسائل شامل تھے، اب دور کر دی گئی ہیں۔ یورپ اور برطانیہ کے روٹس کی بحالی سے پی آئی اے کی تجارتی پوزیشن میں بہتری آئی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں سے مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں بھی نجکاری کا منصوبہ
علاوہ ازیں حکومت بجلی کے شعبے میں مرحلہ وار نجکاری کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ پہلے مرحلے میں آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کو فروخت کیا جائے گا، جبکہ ہیسکو اور سیپکو کو طویل المدتی کنسیشن معاہدوں کے تحت نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا، جہاں نجی آپریٹرز نقصانات کم کر کے اور سروس بہتر بنا کر منافع حاصل کر سکیں گے۔
اسی طرح گدو اور نندی پور کے گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس بھی نجکاری کے لیے تیار کر لیے گئے ہیں، جن سے متعلق تجاویز کو حتمی شکل دینے کے لیے وزارتی کمیٹی کام کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات معیشت کو مستحکم کرنے، سرکاری اداروں پر بوجھ کم کرنے اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
