Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اسپین میں مقیم غیر دستاویزی پاکستانیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

اسپین میں مقیم غیر دستاویزی پاکستانیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

یورپی ملک اسپین میں پاکستانی کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد گزشتہ دو دہائیوں کے دوران روزگار اور بہتر مستقبل کی تلاش میں پہنچی۔ ان میں سے کچھ افراد مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے قیام کو باقاعدہ قانونی شکل نہ دے سکے۔ نتیجتاً انہیں ملازمت، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ تاہم اب حکومت کی مجوزہ اصلاحات سے ان افراد کے لیے ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔

نئی پالیسی کا بنیادی مقصد ان تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینا ہے جو ایک مخصوص مدت سے ملک میں رہ رہے ہیں، سماجی طور پر مربوط ہیں اور کسی سنگین مجرمانہ سرگرمی میں ملوث نہیں رہے۔ ذرائع کے مطابق ایسے افراد کو اپنی رہائش کا ثبوت، مقامی کمیونٹی سے تعلق اور ممکنہ ملازمت یا روزگار کے امکانات دکھانے ہوں گے۔ اس عمل کے بعد انہیں عارضی یا مستقل رہائشی اجازت نامہ دیا جا سکتا ہے، جس سے وہ باقاعدہ طور پر ملازمت کر سکیں گے اور ریاستی اداروں میں رجسٹریشن کرا سکیں گے۔

اسپین میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت تجارت، زراعت، تعمیرات، ریسٹورنٹس اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ ہے۔ کئی افراد برسوں سے محنت کر رہے ہیں مگر قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باعث انہیں کم اجرت، غیر محفوظ کام کے حالات اور استحصال کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ اگر انہیں قانونی درجہ مل جاتا ہے تو وہ باقاعدہ معاہدوں کے تحت کام کر سکیں گے، بینک اکاؤنٹس کھول سکیں گے اور سماجی تحفظ کے نظام میں شامل ہو سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف پاکستانی کمیونٹی بلکہ اسپین کی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔ جب غیر رسمی معیشت میں کام کرنے والے افراد قانونی نظام کا حصہ بن جائیں گے تو ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوگا اور لیبر مارکیٹ زیادہ منظم ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ حکومت کو درست اعداد و شمار میسر آئیں گے جس سے مستقبل کی پالیسی سازی میں آسانی ہوگی۔

پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق قانونی حیثیت ملنے سے ہزاروں خاندانوں کا مستقبل محفوظ ہوگا۔ بہت سے بچے جو اسپین میں پیدا ہوئے یا کم عمری میں یہاں آئے، بہتر تعلیمی مواقع حاصل کر سکیں گے کیونکہ ان کے والدین کے پاس باضابطہ دستاویزات ہوں گی۔ اس سے سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ ملے گا اور تارکینِ وطن معاشرے کا فعال حصہ بن سکیں گے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ Pakistan اور Spain کے درمیان سفارتی اور معاشی تعلقات گزشتہ برسوں میں مضبوط ہوئے ہیں۔ قانونی حیثیت ملنے سے دونوں ممالک کے درمیان افرادی قوت اور کاروباری روابط میں مزید وسعت آ سکتی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن کو بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے ایسے اقدامات بالواسطہ طور پر پاکستان کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

البتہ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ درخواست دہندگان کو سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔ جعلی دستاویزات یا غلط معلومات فراہم کرنے کی صورت میں نہ صرف درخواست مسترد ہو سکتی ہے بلکہ قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے کمیونٹی تنظیمیں لوگوں کو مشورہ دے رہی ہیں کہ وہ مستند ذرائع سے رہنمائی حاصل کریں اور مقررہ وقت کے اندر اپنی درخواستیں جمع کرائیں۔

انسانی حقوق کے حلقوں نے بھی اس پالیسی کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق جب لوگ غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارتے ہیں تو وہ استحصال کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ قانونی تحفظ ملنے سے وہ اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کر سکیں گے اور بنیادی حقوق سے استفادہ کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی معاشرے میں باہمی اعتماد اور استحکام کو فروغ ملے گا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اسپین کی یہ ممکنہ پالیسی ہزاروں پاکستانیوں کے لیے زندگی بدل دینے والا قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر یہ اقدام عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو غیر دستاویزی حیثیت میں رہنے والے افراد کو نہ صرف قانونی تحفظ ملے گا بلکہ وہ اعتماد کے ساتھ اپنے اور اپنے خاندان کے مستقبل کی منصوبہ بندی بھی کر سکیں گے۔ اس پیش رفت نے پاکستانی کمیونٹی میں امید کی نئی لہر دوڑا دی ہے اور سب کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ پالیسی کب اور کس طریقہ کار کے تحت نافذ کی جاتی ہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates