Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اینٹی اسموگ گنز سے لاہور میں وقتی ریلیف، مگر پانی کی قلت کا نیا خطرہ بڑھنے لگا

اینٹی اسموگ گنز سے لاہور میں وقتی ریلیف، مگر پانی کی قلت کا نیا خطرہ بڑھنے لگا

لاہور میں بڑھتی ہوئی اسموگ کے تدارک کے لیے حکومتِ پنجاب کی جانب سے واٹر کینن یا اینٹی اسموگ گنز کے استعمال نے ماحولیاتی ماہرین کو ایک نئی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ گنز فضا میں گردوغبار اور معلق ذرات کو وقتی طور پر کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں، لیکن روزانہ لاکھوں لیٹر پانی کے استعمال سے شہر میں پہلے سے موجود پانی کے بحران کو مزید سنگین بنانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ فی الحال 15 واٹر کینن گاڑیاں مختلف علاقوں میں آزمائشی بنیادوں پر استعمال کی جا رہی ہیں، جن میں سے ہر ایک میں 12 ہزار لیٹر پانی کی گنجائش ہے اور یہ ایک گھنٹے میں اپنا سرکل مکمل کرتی ہے۔ ادارہ تحفظِ ماحولیات پنجاب (ای پی اے) کے مطابق، ان گاڑیوں کو ایئر کوالٹی مانیٹرز سے حاصل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر اُن علاقوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں آلودگی کی شرح زیادہ ہو، اور کاہنہ میں ان کے استعمال کے بعد پی ایم 10 ذرات میں 70 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم ماہرینِ ماحولیات اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے اور اسے “اسموگ تھیٹر” قرار دیتے ہیں، یعنی ایسا ظاہری اقدام جو وقتی بہتری دکھائے مگر اصل مسئلے کو حل نہ کرے۔ ماہرین کے مطابق، چین میں بھی یہی ٹیکنالوجی آزمائی گئی تھی مگر مؤثر ثابت نہ ہونے پر ترک کر دی گئی۔ ڈاکٹر محمد یٰسین کا کہنا ہے کہ لاہور پہلے ہی پانی کی شدید قلت کا شکار ہے اور اگر ایک واٹر کینن 12 گھنٹے روزانہ چلایا جائے تو 15 گاڑیوں کے لیے روزانہ 22 لاکھ لیٹر سے زائد پانی درکار ہوگا، جو شہر کے زیرِ زمین ذخائر پر بھاری بوجھ ڈالے گا۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان کے مطابق، لاہور کے لیے اصل خطرہ اب اسموگ سے زیادہ پانی کی کمی ہے، کیونکہ جب تک گاڑیوں کے اخراج، صنعتوں کے غیر فلٹر شدہ دھویں، ناقص ایندھن اور زرعی باقیات جلانے جیسے بنیادی اسباب پر قابو نہیں پایا جاتا، اسموگ کے خلاف کوئی بھی مہم صرف وقتی ریلیف ہی فراہم کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فضائی آلودگی کے اصل ذرائع پر توجہ نہ دی تو لاہور کو دھند نہیں بلکہ پانی کی کمی لے ڈوبے گی۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates