علمائے کرام، سماجی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے افراد نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے، جو سوگ کے مواقع پر سادگی اور اعتدال کی تلقین کرتی ہیں۔
کئی علما نے نشاندہی کی کہ جنازوں پر کھانا کھلانا آہستہ آہستہ ایک سماجی مجبوری بن چکا تھا، جس کے باعث غریب خاندانوں کو قرض لینا پڑتا یا شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
شہریوں نے بھی اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے ذہنی اور مالی دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پابندی سے تعزیت کا اصل مقصد بحال ہوگا، جہاں توقعات کے بجائے دعاؤں کو اہمیت دی جائے گی۔
پنجاب میں سماجی رویوں میں تبدیلی کی امید
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ طویل المدتی سماجی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ مؤثر عملدرآمد کی صورت میں فضول خرچی میں کمی، وسائل کا ضیاع روکنے اور خاندانوں کے درمیان مساوات کو فروغ ملے گا۔
مزید برآں، ماہرین کے مطابق دیگر علاقوں میں ایسے اقدامات سے سماجی دباؤ میں کمی آئی ہے، لہٰذا پنجاب کا یہ فیصلہ دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔
