اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کے لیے ایک بڑی اور اہم اپ ڈیٹ جاری کر دی ہے، جس کے تحت بلٹ اِن ایپس متعارف کروائی گئی ہیں۔ اس نئی سہولت کے ذریعے صارفین اب چیٹ کے دوران ہی مختلف تھرڈ پارٹی سروسز کو براہِ راست استعمال کر سکیں گے، جس سے چیٹ جی پی ٹی ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
یہ بلٹ اِن ایپس کسی روایتی ایپ اسٹور کے بجائے ان پلیٹ فارم ایپ ڈائریکٹری کے طور پر کام کرتی ہیں۔ صارفین سادہ پرامپٹس یا “@” کمانڈ کے ذریعے دورانِ گفتگو مطلوبہ سروس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ ایپس کا استعمال اتنا ہموار ہو جائے کہ صارف کو چیٹ سے باہر جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
نئی اپ ڈیٹ کے بعد چیٹ جی پی ٹی صرف سوالوں کے جواب دینے تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ انٹرایکٹو اسسٹنٹ بن چکا ہے، جو صارفین کو مختلف کام سرانجام دینے، ورک فلو مینیج کرنے اور ایک ہی چیٹ میں متعدد ڈیجیٹل ٹولز استعمال کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی میں بلٹ اِن ایپس کیسے کام کرتی ہیں؟
ایک بار جب صارف کسی ایپ کو کنیکٹ کر لیتا ہے تو چیٹ جی پی ٹی اسی گفتگو کے دوران اس سروس کو استعمال کر سکتا ہے۔ اس سے ریئل ٹائم میں کام انجام دینا ممکن ہو جاتا ہے، جیسے تصاویر میں ترمیم یا دیگر ڈیجیٹل ٹاسکس، وہ بھی بغیر کسی اضافی پلیٹ فارم پر جائے۔ بعض صورتوں میں صارف کو اس سروس پر الگ اکاؤنٹ بنانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔
اوپن اے آئی کے مطابق ایپس گفتگو میں کانٹیکسٹ اور عملی صلاحیت کا اضافہ کرتی ہیں۔ اب چیٹ جی پی ٹی صرف معلومات فراہم نہیں کرتا بلکہ ان معلومات کو عملی شکل دینے میں بھی مدد دیتا ہے۔
ڈیولپرز کے لیے نئے مواقع
اوپن اے آئی نے ڈیولپرز کے لیے ایپس سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کٹ (SDK) بھی متعارف کروائی ہے، جو فی الحال بیٹا مرحلے میں ہے۔ اس کے ذریعے ڈیولپرز چیٹ پر مبنی تجربات ڈیزائن کر سکتے ہیں اور اپنی سروسز کو براہِ راست چیٹ جی پی ٹی کے اندر شامل کر سکتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹولز ڈیولپرز کو زیادہ گہرے کانٹیکسٹ اور فوری ایکشن کی سہولت دیتے ہیں، جس سے پیداواری صلاحیت، تخلیقی کام اور کسٹم ورک فلو کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق بلٹ اِن ایپس کا اجرا چیٹ جی پی ٹی کے لیے ایک اہم ارتقائی مرحلہ ہے، جو اسے صارفین اور ڈیولپرز دونوں کے لیے ایک زیادہ طاقتور، لچکدار اور ہمہ جہت ڈیجیٹل اسسٹنٹ بناتا ہے۔
