دو روز قبل لاپتہ ہونے والے سابق ایس ایچ او شہید، شدت پسندوں کی جانب سے ذمہ داری قبول
بنوں: خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں سے اغوا ہونے والے پولیس افسر سابق ایس ایچ او عابداللہ خان کی لاش منگل کے روز داؤد شاہ کے علاقے سے برآمد ہوئی۔ پولیس حکام کے مطابق انہیں دو روز قبل نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق عابداللہ خان کی لاش کنٹونمنٹ تھانے کی حدود میں نالہ پل کے قریب ملی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔
افسر کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ماضی میں تھانہ وزیر کے ایس ایچ او رہ چکے تھے اور انہیں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے حال ہی میں ملازمت سے برطرف کیا تھا۔
شدت پسند گروپ نے ذمہ داری قبول کر لی
پولیس ذرائع کے مطابق “لشکرِ دفاع القدس” نامی ایک گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مقامی عمائدین نے منگل کی صبح فریقین کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ان کی رہائی کا معاہدہ طے کرایا تھا، مگر وہ گھر پہنچنے سے قبل ہی شدت پسندوں کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے۔
پولیس افسران کا اظہارِ افسوس
پولیس حکام نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ایک سنگین حملہ ہے۔ ترجمان پولیس کے مطابق، “ایس ایچ او عابداللہ خان کی شہادت بنوں پولیس کے لیے ایک بڑا نقصان ہے اور ایسے واقعات علاقے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔”
شہید افسر کی تدفین ان کے آبائی علاقے میں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔
