Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

قومی اسمبلی میں متنازع قانون کی منظوری، اسد عمر کا سخت ردعمل

قومی اسمبلی میں متنازع قانون کی منظوری، اسد عمر کا سخت ردعمل

قومی اسمبلی میں ایک متنازع اور شدید تنقید کی زد میں آنے والا قانون منظور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت ارکانِ قومی اسمبلی (ایم این ایز) اپنی تنخواہوں کی تفصیلات عوام سے مخفی رکھ سکیں گے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

قانون کی تفصیل

منظور کیے گئے قانون کے مطابق، ایم این ایز کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی تنخواہ اور مالی مراعات کی معلومات عوامی سطح پر ظاہر نہ کریں۔ اس فیصلے کے حق میں سیکیورٹی خدشات کو بطور جواز پیش کیا گیا، جس پر شفافیت کے حامی حلقوں نے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔

اسد عمر کا دوٹوک مؤقف

سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے اس قانون کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ:

’’آپ کا کام تمام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے، نہ کہ خود کو راز داری کے پردے میں چھپانا۔‘‘

اسد عمر کے مطابق، عوامی نمائندے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہیں لیتے ہیں، اس لیے انہیں اپنی آمدن چھپانے کا کوئی اخلاقی یا جمہوری حق حاصل نہیں۔

شفافیت پر سوالات

قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ یہ قانون شفاف طرزِ حکمرانی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق، جمہوریت میں عوام کو یہ جاننے کا پورا حق حاصل ہے کہ ان کے منتخب نمائندے کتنی تنخواہ اور مراعات حاصل کر رہے ہیں۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس قانون کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ دوسری جانب حکمران طبقہ اپنے مالی معاملات کو خفیہ بنانے میں مصروف ہے۔

اختتامیہ

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ قانون نہ صرف شفافیت بلکہ عوام کے اعتماد کے لیے بھی ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ اسد عمر سمیت کئی سیاسی و سماجی شخصیات کا ماننا ہے کہ عوامی نمائندوں کو جواب دہ ہونا چاہیے، نہ کہ خود کو سیکیورٹی کے نام پر چھپانے کی اجازت دی جائے۔ آنے والے دنوں میں اس قانون کے خلاف مزید ردعمل اور ممکنہ قانونی چیلنجز سامنے آنے کا امکان ہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates