اسلام آباد کی عدالت نے متنازعہ ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کر دی، تاہم دونوں نے صحت جرم سے انکار کیا؛ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے کیس کی سماعت کے دوران گرفتار ہادی چٹھہ کو دوبارہ ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا، جس پر جج اور ملزمان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، ہادی چٹھہ نے کہا کہ وہ مچلکے جمع نہیں کرائیں گے جبکہ ایمان مزاری نے کہا کہ اگر گرفتار کرانا چاہتے ہیں تو میری ضمانت بھی منسوخ کی جائے؛ وکیل صفائی قیصر امام نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان سینئر وکلا ہیں جنھیں اسلام آباد اور راولپنڈی کی ہائی کورٹس میں پیش ہونا پڑتا ہے، جس پر جج نے کہا کہ اسی وجہ سے سماعت تین بار ملتوی کی گئی تھی؛ عدالت نے سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کے تمام گواہان طلب کر لیے، اور یہ مقدمہ این سی سی آئی اے کی طرف سے درج کیا گیا ہے۔