پاکستان کرکٹ بورڈ میں کچھ ایسے افسران موجود ہیں جنھیں کوئی بھی چیئرمین چاہ کر بھی نہیں ہٹا پاتا۔ وہ خود کو اس انداز میں ’’ناگزیر‘‘ بنا کر پیش کرتے ہیں جیسے ان کے بغیر بورڈ کا نظام رک جائے گا۔ کئی کے پیچھے سیاسی سرپرستی ہے، کچھ اپنی انگریزی دانی پر فخر کرتے ہیں، تو کچھ قانونی موشگافیوں کے ماہر بن کر چیئرمین کو متاثر کرتے ہیں۔
زیادہ تر چیئرمینوں کے ساتھ یہ مسئلہ رہا کہ ان کے لائے گئے لوگ اتنے اہل نہیں ہوتے، لہٰذا آخرکار انھیں انہی پرانے چہروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، محسن نقوی کا معاملہ الگ ہے۔
میں نے اپنے صحافتی کیریئر میں اتنا طاقتور چیئرمین نہیں دیکھا۔ ان کے سامنے سیاسی سفارش بھی کامیاب نہیں ہوتی۔ وہ کارکردگی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کام کر دکھائے ہیں جو ماضی کے چیئرمین سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ بھارتی بورڈ کو بیک فٹ پر دھکیل دینا ان کی بڑی کامیابی ہے۔
🔹 اندرونی ٹیم کی کمزوریاں
کسی بھی کرکٹ بورڈ میں سب سے اہم کردار سی ای او یا سی او او کا ہوتا ہے، کیونکہ چیئرمین اکثر دیگر سرکاری امور میں مصروف رہتا ہے۔
سلمان نصیر کو سی او او سے ہٹا کر پی ایس ایل میں بھیجا گیا، مگر ان کا اثر و رسوخ اب بھی موجود ہے کیونکہ وہ آئی سی سی اور اے سی سی کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔ اس سے بعض اوقات اندرونی ابہام پیدا ہوتا ہے۔
چیئرمین نے اب فیصلہ کیا ہے کہ بورڈ ٹیم میں تبدیلیاں کی جائیں۔ پہلا ہدف ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ ہیں۔ وہ برسوں سے پی سی بی میں مختلف حیثیتوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر ایشیا کپ کے دوران ’’ہینڈ شیک تنازع‘‘ کے بعد انھیں معطل کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ وہ بعد میں بحال ہوئے، مگر اب بورڈ نے ان کی پوزیشن کے لیے اشتہار جاری کیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یا تو تبادلہ ہوگا یا رخصتی۔
اشتہار میں شرط رکھی گئی ہے کہ امیدوار ٹیسٹ یا انٹرنیشنل کرکٹر ہو اور گریجویٹ بھی۔ ملک میں پڑھے لکھے سابق کھلاڑی زیادہ نہیں، مگر جو بھی آئے، اسے وژنری ہونا چاہیے — وہ صرف آج نہیں بلکہ کل کی کرکٹ کو بھی سمجھنے والا ہو۔
🌍 سفارتی کرکٹ اور حکمتِ عملی
افغانستان کے معاملے میں اگرچہ پاکستان نے ہمیشہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنے کی بات کی، مگر موجودہ حالات میں یہ واضح تھا کہ افغان ٹیم پاکستان نہیں آئے گی۔ بہتر ہوتا کہ ہم پہلے ہی اسے ٹرائنگولر سیریز سے الگ کر دیتے یا ایونٹ مؤخر کر دیتے۔ اس طرح بھارت اور افغانستان کو ہمارے خلاف پروپیگنڈے کا موقع نہ ملتا۔
آئی سی سی نے کبھی بھارت یا افغانستان کے خلاف پاکستان کے کسی معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا، مگر اس بار فوری ردعمل سامنے آیا — یہ واضح طور پر بھارت، افغان بورڈ اور آئی سی سی کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔
آئندہ ماہ آئی سی سی میٹنگ میں بھارت ایشیا کپ کا معاملہ اٹھانے والا ہے۔ پی سی بی کو پہلے سے اپنی پالیسی طے کرنی ہوگی۔
⚙️ مضبوط ٹیم وقت کی ضرورت
میرا مشورہ ہے کہ چیئرمین محسن نقوی ایک ایسی ٹیم بنائیں جو فیصلہ سازی میں جرات مند اور کام سے مخلص ہو۔
میڈیا ڈپارٹمنٹ میں عامر میر، رفیع اللہ اور رضا راشد جیسے اہل لوگ بہترین کام کر رہے ہیں — دیگر شعبوں میں بھی ایسے ہی پیشہ ور لوگ ہونے چاہییں۔
محسن نقوی وہ شخصیت ہیں جنھوں نے اکیلے بھارتی بورڈ کو چیلنج کر رکھا ہے۔ انھی کی بدولت ’’ہائبرڈ ماڈل‘‘ منظور ہوا، اور اب بات برابری کی سطح پر ہوتی ہے۔ لیکن اس سطح کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں بورڈ کے اندر ایک مضبوط ٹیم درکار ہے۔
آج پی سی بی کے پاس وہ اختیارات ہیں جو ماضی میں کسی چیئرمین کو حاصل نہیں ہوئے۔ حکومت کی مداخلت نہ ہونے کے باعث یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ پی سی بی کو ایک مستحکم ادارے میں تبدیل کر دیں۔
💰 معاشی خودمختاری اور مستقبل کی سمت
کرکٹ میں اس وقت سب سے بڑا چیلنج بھارت کی غلبہ پسندی ہے۔ آئی سی سی اب ’’انڈین کرکٹ کونسل‘‘ بنتی جا رہی ہے۔ بھارتی اثر کی وجہ سے پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے غیر ملکی لیگز کے دروازے بھی بند ہو رہے ہیں۔
لہٰذا ہمیں اپنی پاکستان سپر لیگ (PSL) کو مضبوط بنانا ہوگا، اور صرف آئی سی سی پر انحصار کرنے کے بجائے خود کے ذرائع آمدن تلاش کرنے ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک پیشہ ور مارکیٹنگ ٹیم تشکیل دینا ناگزیر ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح میدان میں اچھی ٹیم کے بغیر کپتان کچھ نہیں کر سکتا، ویسے ہی بورڈ کے اندر ایک مضبوط ٹیم کے بغیر چیئرمین بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
