پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات: ایک ارب ڈالر کی قسط پر معاہدہ نہ ہو سکا
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات بدھ کے روز کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ یہ مذاکرات پاکستان کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر کی قرض قسط کے حصول کے حوالے سے کیے جا رہے تھے، تاہم بجٹ کی پائیداری اور ٹیکس وصولی کی کمزور کارکردگی پر تحفظات کے باعث ابھی تک اسٹاف لیول معاہدہ نہیں ہو سکا۔
حکام کے مطابق پاکستان نے جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران پروگرام کے تحت مقرر کیے گئے تمام مقداری اہداف (Quantitative Performance Targets) حاصل کر لیے تھے، لیکن اس کے باوجود آئی ایم ایف کو خدشہ ہے کہ حکومت مالی سال کے اختتام تک 3.15 کھرب روپے (Rs3.15 trillion) کے بنیادی بجٹ سرپلس کے ہدف کو حاصل نہیں کر سکے گی۔ یہی خدشات دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
مذاکرات کا آغاز اور شیڈول
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان یہ مذاکرات 26 فروری کو شروع ہوئے تھے اور ان کا شیڈول 11 مارچ تک طے کیا گیا تھا۔ ان مذاکرات کی قیادت آئی ایم ایف کی مشن چیف ایوا پیٹرووا (Iva Petrova) کر رہی تھیں۔ اس دوران پاکستان کی معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف کے ماہرین نے مختلف معاشی اشاریوں، ٹیکس وصولیوں، حکومتی اخراجات اور اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی۔
ابتدائی طور پر آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچا اور مذاکرات کا آغاز کراچی میں کیا گیا۔ تاہم بعد میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال کے باعث وفد نے 2 مارچ کو کراچی چھوڑ دیا۔ حکام کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے وفد نے اپنی موجودگی محدود کر دی۔
اس کے بعد باقی مذاکرات آن لائن اور ورچوئل طریقے سے ترکیہ سے جاری رکھے گئے، جہاں سے آئی ایم ایف کی ٹیم نے پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت جاری رکھی۔
بجٹ سرپلس پر آئی ایم ایف کے تحفظات
مذاکرات میں سب سے اہم مسئلہ بجٹ سرپلس کا ہدف ہے۔ پاکستان نے موجودہ مالی سال کے لیے 3.15 کھرب روپے کے بنیادی بجٹ سرپلس کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے، لیکن آئی ایم ایف کو اس بات پر شکوک ہیں کہ موجودہ معاشی صورتحال میں حکومت اس ہدف کو حاصل کر پائے گی یا نہیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق اگر حکومت کو یہ ہدف حاصل کرنا ہے تو اسے ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا اور ساتھ ہی اخراجات پر سخت کنٹرول بھی رکھنا ہوگا۔ اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، سبسڈیز میں کمی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا بھی ضروری ہوگا۔
ایف بی آر کی کارکردگی اہم مسئلہ
ان مذاکرات میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی کارکردگی بھی ایک بڑا موضوع رہی۔ حکومت نے مالی سال کے آغاز میں 14.13 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا تھا۔ تاہم بعد میں آئی ایم ایف نے دوسرے جائزے کے دوران اس ہدف کو کم کر کے 13.98 کھرب روپے کر دیا تھا۔
حالیہ مذاکرات کے دوران ایف بی آر نے ایک بار پھر ٹیکس ہدف میں کمی کی درخواست کی اور تجویز دی کہ اسے 13.5 کھرب روپے سے بھی کم کر دیا جائے۔ اس درخواست نے آئی ایم ایف کے اندر مزید خدشات کو جنم دیا، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس وصولی کا نظام ابھی بھی اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔
آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ اگر ٹیکس اہداف مسلسل کم کیے جاتے رہے تو حکومت کے لیے بجٹ سرپلس کا ہدف حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
دو اہم اہداف حاصل نہ ہو سکے
جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران پاکستان دو اشاریہ جاتی اہداف (Indicative Targets) بھی حاصل نہیں کر سکا۔ ان میں پہلا ہدف 6.5 کھرب روپے کے ٹیکس جمع کرنے کا تھا، جو مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکا۔
اسی طرح دوسرا ہدف ریٹیل سیکٹر سے 366 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کا تھا، جس میں بھی حکومت مطلوبہ کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ آئی ایم ایف کے مطابق ریٹیل سیکٹر میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس شعبے میں بڑی مقدار میں کاروبار ہونے کے باوجود ٹیکس وصولی نسبتاً کم ہے۔
سرکاری اداروں اور توانائی شعبے میں اصلاحات
مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے سرکاری ملکیتی اداروں (State-Owned Enterprises – SOEs) میں اصلاحات پر بھی زور دیا۔ پاکستان کے کئی سرکاری ادارے مسلسل خسارے میں چل رہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومتی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ بجلی کے شعبے میں سبسڈی کے معاملے پر بھی آئی ایم ایف نے تشویش کا اظہار کیا۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات تیز کرے اور ایسی پالیسی اپنائے جس سے گردشی قرضہ کم ہو اور مالیاتی نظم و ضبط بہتر ہو۔
گورننس اور قانون سازی کے معاملات
آئی ایم ایف نے صرف معاشی نہیں بلکہ گورننس سے متعلق اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان میں الیکشن کمیشن آف پاکستان ایکٹ میں ترامیم بھی شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق ادارہ جاتی شفافیت اور مضبوط گورننس معاشی اصلاحات کے عمل کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ان نکات پر دونوں فریقین کے درمیان مزید وضاحت اور اتفاق رائے کی ضرورت ہے، جس کی وجہ سے مذاکرات ابھی تک حتمی مرحلے تک نہیں پہنچ سکے۔
آئندہ مذاکرات کی توقع
حکام کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے اسی ہفتے ایک اور دور کے مذاکرات متوقع ہیں۔ دونوں فریقین کوشش کر رہے ہیں کہ باقی ماندہ مسائل کو حل کر کے جلد از جلد اسٹاف لیول معاہدہ طے کیا جائے۔
اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پاکستان کو تقریباً ایک ارب ڈالر کی قسط جاری ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی، جو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور معاشی استحکام کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
نتیجہ
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات ملک کی معاشی صورتحال کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے کئی اہم اہداف حاصل کیے ہیں، تاہم ٹیکس وصولی، بجٹ سرپلس اور معاشی اصلاحات کے حوالے سے اب بھی کئی سوالات موجود ہیں۔
آنے والے دنوں میں ہونے والے مزید مذاکرات اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا دونوں فریقین کسی مشترکہ حل تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال مذاکرات جاری ہیں اور دونوں جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ اختلافات کو دور کر کے معاہدہ مکمل کیا جا سکے۔
