Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

جمہوریت، طاقت اور ’’غلط فیصلہ‘‘ کا بیانیہ

جمہوریت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اقتدار کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔ جس سیاسی جماعت یا لیڈر کو عوام کی اکثریت ووٹ دے، اسے حکومت بنانے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ یہ اصول نہ صرف آئینی ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی جدید ریاست کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ جمہوریت کو صرف اس وقت تسلیم کیا جاتا ہے جب اس کا نتیجہ طاقتور حلقوں کی خواہش کے مطابق ہو۔

جب عوام کسی ایسے سیاسی لیڈر کو ووٹ دے دیں جو طاقت کے مراکز کو ناپسند ہو، تو فوراً ایک نیا بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے:
کہ عوام جذباتی ہیں، ناسمجھ ہیں، گمراہ ہو چکے ہیں، اور ان سے “غلط فیصلہ” ہو گیا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں جمہوریت اور طاقت آمنے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔

طاقت کا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ عوام نے جس لیڈر کو چُنا ہے وہ نااہل ہے، خطرناک ہے، ریاستی اداروں کے لیے نقصان دہ ہے، اور اس نے قومی سلامتی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ چنانچہ عوامی فیصلے کو ہی مشکوک قرار دے دیا جاتا ہے۔ یوں ووٹ کی حرمت ختم ہو جاتی ہے اور جمہور کی رائے کو Invalid کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔

یہ طرزِ فکر دراصل جمہوریت پر عدم اعتماد کی علامت ہے۔ اگر عوام واقعی فیصلہ کرنے کے اہل نہیں، تو پھر ووٹ کا عمل محض ایک دکھاوا بن جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کسی لیڈر نے ریاستی اداروں کو نقصان پہنچایا یا نہیں—سوال یہ ہے کہ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ عدالت؟ پارلیمنٹ؟ یا وہی طاقتور حلقے جو خود کو عوام سے بالاتر سمجھتے ہیں؟

جمہوریت میں احتساب کا طریقہ بھی جمہوری ہوتا ہے۔ اگر کوئی لیڈر ناکام ہے، غلط فیصلے کرتا ہے یا اداروں سے ٹکراتا ہے، تو اس کا جواب اگلے الیکشن میں دیا جاتا ہے، نہ کہ عوام کے ووٹ کو ہی کالعدم قرار دے کر۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم عوام پر بھروسا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم یہ ماننے کو تیار نہیں کہ جمہور سیکھتا ہے، غلطیوں سے سبق لیتا ہے، اور وقت کے ساتھ بہتر فیصلے بھی کر سکتا ہے۔ جب بھی عوام طاقت کے بیانیے سے ہٹ کر فیصلہ کرتے ہیں، تو انہیں بیوقوف، گمراہ یا جذباتی قرار دے دیا جاتا ہے۔

یہ رویہ نہ صرف جمہوریت کو کمزور کرتا ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کرتا ہے۔ جب عوام یہ محسوس کریں کہ ان کا ووٹ بے معنی ہے، تو نظام سے بیزاری جنم لیتی ہے، جو کسی بھی ریاست کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

آخرکار سوال یہی ہے:
کیا ہم واقعی جمہوریت چاہتے ہیں؟
یا صرف وہ جمہوریت جو طاقت کے دائرے میں رہے؟

جب تک اس سوال کا ایماندارانہ جواب نہیں دیا جاتا، تب تک جمہور کا ہر فیصلہ طاقت کی عدالت میں مشکوک ہی ٹھہرتا رہے گا۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates