اسلام آباد — قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ کے اجلاس میں کسانوں کے لیے سہولیات اور سبسڈی کے معاملے پر پنجاب اور سندھ کے نمائندوں میں بحث چھڑ گئی۔
اجلاس کی صدارت سید حسین طارق نے کی، جس میں بیجوں کی سرٹیفیکیشن، سبسڈی اور انسپکشن کے نظام پر تبادلۂ خیال ہوا۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ وفاق نے صوبوں کو اختیارات دینے کی پیشکش کی لیکن سندھ حکومت ان اختیارات کو لینے سے گریزاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے سندھ کو کہا کہ قانون سازی کریں اور خود انفورسمنٹ کا نظام بنائیں، مگر وہ ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب نے زرعی شعبے میں قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں، جب کہ سندھ کی کارکردگی میں سست روی دکھائی دے رہی ہے۔
اس موقع پر رکنِ کمیٹی رانا حیات خان نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ کسانوں کو سبسڈی دینے میں فعال ہے، پنجاب کو بھی اس دوڑ میں آگے نکلنا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ پنجاب حکومت کسانوں کو کھادوں کی فراہمی میں خاطر خواہ سہولت دے، کم از کم ایک بوری ڈی اے پی اور دو یوریا کھاد فراہم کرے۔
چیئرمین کمیٹی نے دونوں صوبوں کو کسانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے کا مشورہ دیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں 12 ہزار ڈیلرز کی جانچ پڑتال کی گئی، 328 کے خلاف کارروائی عمل میں آئی اور بیجوں کے معیار پر خلاف ورزی کرنے والوں پر 20 ملین روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
رانا تنویر حسین نے زور دیا کہ سرٹیفائیڈ بیجوں کے فروغ اور انفورسمنٹ کے نظام کو مؤثر بنانا ناگزیر ہے تاکہ جعلی بیجوں کے کاروبار کا خاتمہ کیا جا سکے۔
