چکوال، جو اپنی روایات، امن اور باوقار لوگوں کی سرزمین کے طور پر جانا جاتا ہے، ہمیشہ اچھے افسران کو پرکھنے میں منفرد پہچان رکھتا ہے۔ یہاں وہی افسر عوام کے دلوں میں جگہ بناتا ہے جو خود کو عوام کا خادم سمجھ کر ذمہ داریاں نبھائے۔ ڈی پی او احمد محی الدین بھی انہی افسران میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے چارج سنبھالتے ہی اپنے طرزِ عمل سے مثبت تاثر قائم کیا۔
چکوال آنے کے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ان کی اولین ترجیح عوامی خدمت ہے، نہ کہ محض کرسی کا وقار۔ پولیس اسٹیشنوں میں شہریوں کی عزتِ نفس کا خیال، سائلین کی بروقت داد رسی، اور کمیونٹی پولیسنگ کا فروغ—یہ وہ نکات تھے جن پر ڈی پی او نے خصوصی توجہ دی۔
جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی، ٹریفک کے بگڑتے نظام کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے گئے، جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کے ساتھ براہِ راست رابطہ مضبوط کیا گیا۔ چکوال کے شہریوں نے ان تبدیلیوں کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ سراہا بھی—اور یہی کسی اچھے افسر کی حقیقی کامیابی ہوتی ہے۔
تاہم سرکاری نظام کا اصول ہے کہ افسر جہاں بھی خدمات انجام دے، وہ ریاست کی امانت کے تحت ہوتا ہے۔ اسی اصول کے مطابق ڈی پی او احمد محی الدین کا چکوال سے تبادلہ عمل میں آیا۔
افسران آتے جاتے رہتے ہیں، مگر ان کا کام اور طرزِ عمل اپنی یادیں چھوڑ جاتا ہے۔ احمد محی الدین بھی چکوال میں اپنے مختصر مگر مؤثر دورِ تعیناتی کی خوشبو چھوڑ کر روانہ ہو رہے ہیں۔
عوام کی توقعات ہیں کہ وہ جہاں بھی جائیں گے، اسی جذبے، خلوص اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ فرائض انجام دیں گے جیسا کہ انہوں نے چکوال میں دیا۔
چکوال کی دھرتی ایسے افسران کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے — جو یہاں آ کر صرف کرسی کے افسر نہیں بنتے، بلکہ دلوں کے افسر بن جاتے ہیں
