قطر میں تعینات 1.1 ارب ڈالر مالیت کے امریکی میزائل وارننگ ریڈار کو ایک مبینہ ایرانی ڈرون حملے میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک ایرانی حملہ آور ڈرون نے قطر کے شہر الخور کے قریب نصب AN/FPS-132 بلاک 5 ابتدائی انتباہی ریڈار سسٹم کو ہدف بنایا۔ یہ ریڈار امریکی بیلسٹک میزائل نگرانی کے نظام کا اہم اور جدید ترین حصہ تصور کیا جاتا ہے اور خطے میں میزائل لانچ کی نگرانی اور پیشگی وارننگ فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو کیے گئے بڑے میزائل اور ڈرون حملے کے دوران ایک کم لاگت ایرانی ڈرون دفاعی نظام کو عبور کرنے میں کامیاب رہا اور اس نے مبینہ طور پر حساس تنصیب کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق اس واقعے نے جدید دفاعی نظاموں کی کارکردگی اور ان کی کمزوریاں دوبارہ زیرِ بحث لا دی ہیں، خصوصاً ایسے حالات میں جب کم قیمت ڈرونز کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ ریڈار کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کارروائی ایک مربوط حملے کا حصہ تھی۔ دوسری جانب قطری حکام نے تصدیق کی ہے کہ تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ نقصان کی مکمل نوعیت کا ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی رپورٹ بعد میں جاری کی جائے گی۔
تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ حکام صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور متاثرہ مقام پر تکنیکی ٹیمیں معائنے میں مصروف ہیں تاکہ نقصان کی حد اور ممکنہ اثرات کا تعین کیا جا سکے۔
یہ واقعہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے اور اس سے دفاعی حکمتِ عملی، فضائی نگرانی کے نظام اور سیکیورٹی تعاون سے متعلق سوالات مزید اہم ہو گئے ہیں۔
