اسلام آباد کی فضاؤں میں اس وقت ایک بار پھر سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ایوانِ صدر میں ہونے والی ملاقات میں صدر آصف علی زرداری اور مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے نہ صرف مسلم امہ کے اتحاد اور ہم آہنگی پر گفتگو کی بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
صدر زرداری نے ڈاکٹر العیسیٰ کی جانب سے امت مسلمہ میں اعتدال، برداشت اور مکالمے کے فروغ کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ **انتہا پسندی اور اسلاموفوبیا کے خلاف مسلم ورلڈ لیگ کا کردار قابلِ تحسین ہے** اور دنیا کو اسلام کے حقیقی پیغام سے روشناس کرانے کے لیے ایسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
گفتگو کے دوران صدرِ مملکت نے اسلام آباد میں لڑکیوں کی تعلیم پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کو ایک مثبت قدم قرار دیا اور کہا کہ **سیرت النبی ﷺ میوزیم پاکستان اور مسلم ورلڈ لیگ کے روحانی اور فکری رشتے کی علامت** ہے۔
صدر زرداری نے پاکستان اور مسلم ورلڈ لیگ کے درمیان مجوزہ معاہدے کو صحت، تعلیم اور انسانی ہمدردی کے منصوبوں کے لیے سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت ہمیشہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی حصہ رہے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ **غزہ میں پائیدار امن کے لیے اسرائیلی انخلا اور تعمیرِ نو ناگزیر ہے**، اور عالمی برادری کو اس مقصد کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانا چاہیے۔
سعودی عرب سے تعلقات کے حوالے سے صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان کو اپنے “تاریخی اور برادرانہ رشتوں” پر فخر ہے، اور **سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے آئندہ دورۂ پاکستان سے دو طرفہ تعاون ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔**
اس موقع پر ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے بھی پاکستان کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عوام کے دلوں میں پاکستان کے لیے ایک خاص محبت اور احترام پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی سیاسی جدوجہد ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، اور صدر زرداری کا اُن کے وژن کو آگے بڑھانا قابلِ تعریف ہے۔
ڈاکٹر العیسیٰ نے حالیہ دفاعی تعاون کو **پاکستان–سعودی تعلقات میں اعتماد اور بھائی چارے کی مضبوط علامت** قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک مستقبل میں ترقی، امن اور قیادت کے نئے باب رقم کریں گے۔
