اسلام آباد کی نمل یونیورسٹی (NUML) میں منگل کے روز ہونے والے اچانک دھماکے نے طلبہ میں شدید گھبراہٹ پیدا کر دی۔ دھماکہ ڈیپارٹمنٹ آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز میں ہوا، جس کے بعد عمارت سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا اور طلبہ خوف کے باعث تیزی سے باہر کی جانب بھاگنے لگے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ گیس سلنڈر پھٹنے کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اصل وجہ کا تعین ابھی باقی ہے۔ دھماکہ چائنیز ڈیپارٹمنٹ کے سامنے والے بلاک کے قریب ہوا، جہاں موجود طلبہ نے زور دار آواز کے بعد دھواں اٹھتے دیکھا۔
ریسکیو کی گاڑیاں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ایمرجنسی ٹیموں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس کا عمل شروع کر دیا۔ تاحال کسی زخمی یا نقصان کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا، اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
عینی شاہد طلبہ کے مطابق دھماکے کے بعد خوف کی لہر تیزی سے پھیلی، اور بہت سے طلبہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے کھلے میدانوں کی جانب بھاگ گئے۔ حکام نے کہا ہے کہ مکمل معائنہ ہونے کے بعد مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
