وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ایک وسیع پیمانے پر ٹیکس آڈٹ کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد چھپائی گئی آمدنی، غلط بیانات اور غیر رپورٹ شدہ آمدنی کا پتہ لگانا ہے۔
آڈٹ کے اہم نکات
ہدف: سالیری والے ملازمین، کارپوریٹ ٹیکس دہندگان، اور ہائی نیٹ ورتھ افراد
پہلے مرحلے میں تقریباً 7 سے 10 لاکھ ٹیکس ریٹرنز کا بغور جائزہ لیا جائے گا
سی ای اوز، اعلیٰ عہدے داروں اور سینئر افسران کی ریٹرنز بھی اس اسکیننگ میں شامل ہوں گی
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
ایف بی آر جدید ڈیٹا اینالیسز سسٹمز اور AI ٹولز استعمال کرے گا تاکہ غیر قانونی آمدنی اور تضاد کو پہچانا جا سکے
ممکنہ نتائج
ٹیکس دہندگان جن کی ریٹرنز میں غلطیاں پائی جائیں گی، وہ بھاری جرمانوں اور قانونی کارروائیوں کے سامنا کریں گے
ایف بی آر کا اندازہ ہے کہ تقریباً 25 فیصد ٹیکس دہندگان نے پچھلے سال کے مقابلے میں کم ٹیکس ادا کیا ہوگا
30 نومبر تک زیرِ جائزہ ریٹرنز کی تعداد 70 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے
مقصد
یہ مہم ایف بی آر کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے تاکہ ٹیکس کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے اور آمدنی چھپانے والے ٹیکس دہندگان کو پکڑا جا سکے۔
