Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

نِپاہ وائرس کے خلاف بڑی پیش رفت، ویکسین کے پہلے انسانی ٹرائلز کا آغاز

نِپاہ وائرس کے خلاف بڑی پیش رفت، ویکسین کے پہلے انسانی ٹرائلز کا آغاز

فروری 2026 کے اوائل میں جاپان کی یونیورسٹی آف ٹوکیو سے تعلق رکھنے والے محققین نے عالمی صحت کے تحفظ کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ سائنس دانوں نے خطرناک نِپاہ وائرس کے خلاف ویکسین کے پہلے انسانی کلینیکل ٹرائلز کا آغاز کر دیا ہے۔

نِپاہ وائرس ایک انتہائی مہلک بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے اور اس کی شرحِ اموات 75 فیصد تک بتائی جاتی ہے۔ اس وقت اس وائرس کے لیے کوئی منظور شدہ علاج موجود نہیں۔

ویکسین کے فیز ون ٹرائلز رواں سال اپریل میں بیلجیم میں شروع کیے جائیں گے، جسے مستقبل میں وبائی امراض کی روک تھام کے لیے ایک اہم اور پیشگی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ ویکسین ایک جدید سائنسی طریقہ کار پر مبنی ہے، جس میں نِپاہ وائرس کے جینیاتی اجزا کو کمزور شدہ خسرہ وائرس میں شامل کیا گیا ہے۔ قبل از کلینیکل جانچ کے دوران یہ ویکسین جانوروں میں سو فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

یورپ میں 60 صحت مند رضاکاروں پر اس ویکسین کی آزمائش کے ذریعے اس کی حفاظت اور افادیت کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد تجربات کو بنگلہ دیش اور بھارت جیسے زیادہ خطرے والے علاقوں تک توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔

ماہرین کے مطابق جانوروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر یہ عالمی اشتراک مستقبل میں ہزاروں جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر ان خطوں میں جہاں نِپاہ وائرس وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہا ہے۔

 

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates