Share This Article
ڈیجیٹل عادات کو توڑتے ہوئے اور ذہنی سکون کی تلاش میں، دنیا بھر میں جنریشن زیڈ کے نوجوان اسمارٹ فونز کے بجائے سادہ موبائل فونز، جنہیں عام طور پر ڈمب فونز کہا جاتا ہے، کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ یہ رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نوجوان ٹیکنالوجی کو اپنی زندگی پر حاوی ہونے دینے کے بجائے اسے شعوری اور محدود انداز میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
ایپس، نوٹیفکیشنز اور مسلسل اسکرولنگ سے پاک یہ سادہ فونز نوجوانوں کو توجہ، یکسوئی اور حقیقی زندگی سے جڑنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ کئی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون سے دوری اختیار کرنے کے بعد وہ خود کو کم ذہنی دباؤ اور زیادہ پُرسکون محسوس کرتے ہیں۔
الگورتھم پر مبنی مواد اور مسلسل آن لائن رہنے کے دباؤ کے بغیر، نوجوانوں کو مشاغل، رشتوں اور ذاتی اہداف کے لیے زیادہ وقت میسر آ رہا ہے۔ اس رجحان کے پیچھے ڈیجیٹل پرائیویسی سے متعلق خدشات بھی شامل ہیں، کیونکہ نوجوان اب اس بات سے زیادہ آگاہ ہو چکے ہیں کہ ان کی ذاتی معلومات کس طرح ٹریک کی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈمب فون اپنانا ٹیکنالوجی کو مسترد کرنے کے مترادف نہیں بلکہ یہ اس بات کی نئی تعریف ہے کہ ٹیکنالوجی روزمرہ زندگی میں کس حد تک شامل ہونی چاہیے۔ یہ رجحان ذہنی صحت، توازن اور صحت مند ڈیجیٹل عادات کی جانب بڑھتے ہوئے عالمی شعور کی نشاندہی کرتا ہے۔
