Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

گیس کا گردشی قرضہ 3200 ارب روپے: ایک بڑھتا ہوا معاشی خطرہ

ملک میں توانائی کے شعبے کا سب سے سنگین مسئلہ گیس کے گردشی قرضے کی صورت میں سامنے آ چکا ہے، جو اب بڑھ کر تقریباً 3200 ارب روپے کی سطح کو چھو چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ اس بات کی واضح علامت بھی ہیں کہ توانائی کے نظام میں بنیادی اصلاحات کے بغیر مسئلہ مسلسل بگڑتا جا رہا ہے۔

چند ہی عرصہ قبل گیس کا گردشی قرضہ 2600 ارب روپے کے قریب تھا، مگر اس میں تیز رفتاری سے اضافہ ہوا۔ اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ لیٹ پیمنٹ سرچارج (LPS) ہے، جو اب بڑھ کر تقریباً 1450 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یعنی قرضے کا ایک بڑا حصہ اصل واجبات نہیں بلکہ تاخیر سے ادائیگی پر لگنے والا اضافی بوجھ ہے۔

یہ صورتحال اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ توانائی کے شعبے میں ادائیگیوں کا نظام بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ گیس کمپنیاں بروقت اپنی رقوم وصول نہیں کر پا رہیں، صارفین کی بڑی تعداد یا تو ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتی یا نظامی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نادہندہ بنی ہوئی ہے، جبکہ حکومتی ادارے خود بھی اربوں روپے کے واجب الادا ہیں۔

دوسری جانب، حکومت کی سطح پر پٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 5 روپے اضافی لیوی کی تجویز زیر غور ہے۔ اس اقدام کا مقصد ریونیو میں اضافہ اور توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے مالی خسارے کو کسی حد تک سنبھالنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس کا براہِ راست اثر عوام پر پڑے گا، کیونکہ پہلے ہی مہنگائی کی شرح بلند ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی روزمرہ اشیاء کی قیمتوں کو اوپر لے جاتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ گردشی قرضے کا حل صرف نئی لیویز یا قیمتوں میں اضافے سے ممکن نہیں۔ جب تک:

  • سرکاری اداروں کی واجبات کی بروقت ادائیگی

  • گیس چوری اور لائن لاسز پر قابو

  • سبسڈی کے نظام کی شفاف ازسرنو ترتیب

  • اور وصولیوں کے مؤثر طریقۂ کار

نافذ نہیں کیے جاتے، تب تک گردشی قرضہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتا رہے گا۔

لیٹ پیمنٹ سرچارج میں غیر معمولی اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ اب صرف توانائی کا نہیں بلکہ مالی نظم و ضبط کا بن چکا ہے۔ قرض پر قرض، جرمانے پر جرمانہ، اور آخرکار اس کا بوجھ صارف پر ڈال دیا جاتا ہے۔

اگر یہی رجحان برقرار رہا تو نہ صرف گیس کے نرخ مزید بڑھیں گے بلکہ توانائی کا پورا شعبہ مالی طور پر مفلوج ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ اس کے اثرات صنعت، برآمدات، روزگار اور مجموعی معیشت پر پڑیں گے۔

اب سوال یہ نہیں کہ گردشی قرضہ کیوں بڑھا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اس بار اس کے مستقل حل کی سنجیدہ کوشش کی جائے گی، یا ایک بار پھر قیمتوں میں اضافہ ہی واحد جواب ہوگا؟

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates