سانحہ گل پلازہ نے ملک کے تجارتی حلقوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جہاں ابتدائی تخمینوں کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں مجموعی طور پر 8 ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان ہوا ہے۔ معروف تاجر اور کاروباری شخصیت عقیل کریم ڈھیڈی کے مطابق یہ نقصان صرف ایک عمارت یا چند دکانوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات دور رس اور وسیع ہیں۔
عقیل کریم ڈھیڈی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں موجود کاروباری یونٹس، دفاتر، قیمتی سامان اور اسٹاک مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس کے باعث درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ تاجروں کے لیے ایک بڑا معاشی صدمہ ہے، جس سے نکلنے میں کافی وقت لگے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گل پلازہ میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر بڑی تعداد میں کاروبار کر رہے تھے، جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اس جگہ لگائی تھی۔ اچانک پیش آنے والے اس سانحے نے نہ صرف سرمایہ ضائع کر دیا بلکہ اعتماد اور تحفظ کے احساس کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
عقیل کریم ڈھیڈی نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ تاجروں کے لیے فوری ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے، جس میں مالی امداد، آسان قرضے اور ٹیکس میں رعایت شامل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت مدد فراہم نہ کی گئی تو کئی کاروبار ہمیشہ کے لیے بند ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس واقعے کو شہری انفراسٹرکچر اور حفاظتی انتظامات پر ایک سنجیدہ سوال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی عمارتوں کے حفاظتی معیارات کا ازسرِنو جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے سانحات سے بچا جا سکے۔
سانحہ گل پلازہ نہ صرف ایک مالی نقصان ہے بلکہ یہ ایک وارننگ بھی ہے کہ اگر حفاظتی اقدامات، منصوبہ بندی اور نگرانی کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کے نتائج مزید تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
