معروف تجزیہ کار حامد میر نے اپنے حالیہ بیان میں بتایا ہے کہ سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عمران خان سے متعدد ایسے اقدامات کروانے کی کوشش کی جو عمران خان کی پالیسیوں اور موقف کے مطابق نہیں تھے۔
اہم نکات
جنرل باجوہ کا خیال تھا کہ عمران خان “ہاں” میں مین” (Yes Man) بنیں گے، مگر ایسا نہیں ہوا۔
حامد میر کے مطابق، جنرل باجوہ چاہتے تھے کہ عمران خان اسرائیل کو انگیج کریں، لیکن عمران خان نے اس پر صاف انکار کر دیا۔
تجزیہ کار نے کہا کہ جنرل باجوہ کی طرف سے عمران خان پر دباؤ موجود تھا، لیکن عمران خان نے اپنی پالیسیوں اور موقف پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔
تعلقات میں تناؤ
حامد میر کے مطابق، اس صورتحال نے پاکستان میں سیاسی اور عسکری تعلقات میں تناؤ پیدا کیا، اور یہ ایک ایسا موقع تھا جہاں سیاست اور عسکری معاملات ایک دوسرے سے جڑ گئے۔
اختتامیہ
یہ انکشافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے تعلقات پیچیدہ اور حساس ہوتے ہیں۔ حامد میر کے مطابق، عمران خان نے اپنی پالیسی اور موقف پر قائم رہتے ہوئے عسکری دباؤ کو مسترد کیا، جس نے بعد میں سیاسی منظرنامے پر اثر ڈالا۔
