Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

کیا سوشل میڈیا فائر وال بند کر دی گئی ہے؟

ٹیلی کام آپریٹرز نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے نصب کیا گیا فائر وال بند کر دیا گیا ہے۔ آپریٹرز نے ان رپورٹس کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا ہے۔

یہ خبریں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں اور بعض میڈیا اداروں نے بھی انہیں شائع کیا تھا، جن میں کہا گیا تھا کہ مبینہ طور پر مطلوبہ نتائج نہ دینے پر حکومت نے آن لائن پلیٹ فارمز کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والا فائر وال سسٹم غیر فعال کر دیا ہے۔

تاہم رابطہ کرنے پر ٹیلی کام آپریٹرز نے واضح کیا کہ انہیں حکومت کی جانب سے ایسا کوئی حکم موصول نہیں ہوا کہ کسی سسٹم کو بند کیا جائے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ان کے نیٹ ورکس پر فائر وال انفراسٹرکچر بدستور فعال ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام نے بھی وضاحت کی کہ ریگولیٹر کی جانب سے کوئی فائر وال آپریٹ نہیں کیا جاتا۔ ان کے مطابق تقریباً دو دہائیوں سے استعمال ہونے والا ویب مینجمنٹ سسٹم غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے اور گرے ٹریفک کو روکنے کے لیے موجود ہے، اور یہ معمول کے ریگولیٹری اقدامات کے تحت کام کر رہا ہے۔

پی ٹی اے حکام کے مطابق ویب مینجمنٹ سسٹم بند نہیں کیا گیا اور اپنی ذمہ داریوں کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ان گردش کرتی خبروں کی نہ تو باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ تردید۔ تاہم معاملے سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فائر وال انفراسٹرکچر آپریٹرز کی سطح پر نصب ہے، لہٰذا اس کی فعالیت کے حوالے سے ان کا مؤقف ہی درست سمجھا جانا چاہیے۔

یہ پیش رفت انٹرنیٹ گورننس اور مواد کی نگرانی سے متعلق عوامی بحث کے دوران سامنے آئی ہے۔ تاہم ٹیلی کام آپریٹرز اور متعلقہ اداروں کا مؤقف ہے کہ حکومت کی جانب سے نصب کسی بھی فائر وال کو بند نہیں کیا گیا۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates