ماہرینِ صحت کے مطابق مسلسل اور شدید خراٹے لینے کو ہلکا نہیں لینا چاہیے، کیونکہ یہ بعض اوقات سلیپ اپنیا جیسی بیماری کی علامت ہو سکتے ہیں۔ سلیپ اپنیا میں نیند کے دوران سانس بار بار رکتی ہے، جس کے باعث جسم اور دماغ کو مناسب آکسیجن نہیں مل پاتی۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق ایسے افراد میں:
بلڈ پریشر بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے،
نیند کی کمی کے باعث یادداشت، توجہ اور ذہنی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے،
طویل عرصے تک علاج نہ ہونے پر دل کی بیماریوں کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔
یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ عام اور ہلکے خراٹے ہر شخص کے لیے یکساں خطرناک نہیں ہوتے، اور نہ ہی ڈیمینشیا یا دیگر بیماریوں کے خطرے میں کسی “98%” جیسے مخصوص اضافے کا سائنسی ثبوت موجود ہے۔
اصل مسئلہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ہر رات سخت اور بار بار خراٹے لیتے ہیں یا جن کا سانس نیند کے دوران رُکتا ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر:
خراٹے بہت زیادہ ہوں،
سانس رکنے کا شبہ ہو،
صبح سر درد، تھکن یا ضرورت سے زیادہ نیند محسوس ہو،
تو سلیپ اسپیشلسٹ سے معائنہ کروانا چاہیے۔
علاج میں معمولی تبدیلیاں — جیسے وزن میں کمی، سونے کا انداز بدلنا، یا ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق CPAP مشین کا استعمال — واضح بہتری لا سکتے ہیں۔
