ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے ڈگری اتھینٹیکیشن سسٹم کو جدید بنانے کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی نیا نظام نہ صرف پورا عمل آن لائن کردے گا بلکہ دستاویزی دھکے، لائنیں اور بار بار کی حاضری ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی۔
ایچ ای سی کے مطابق سسٹم کی ڈویلپمنٹ کے لیے درکار پراکیورمنٹ مکمل ہو چکی ہے اور نیا بلاک چین سسٹم اگلے چھ ماہ کے اندر مکمل طور پر فعال ہوجائے گا۔
درخواست گزاروں کو دفتر آنے کی ضرورت ختم
ایچ ای سی کے قائم مقام چیئرمین ندیـم محبوب نے متعلقہ ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ منصوبے پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئے سسٹم کے تحت:
درخواست گزاروں کو اب فزیکل ڈاکومنٹس جمع نہیں کروانے ہوں گے۔
نہ ہی انہیں ایچ ای سی کے دفاتر آنے کی ضرورت پڑے گی۔
پورا عمل آن لائن، خودکار اور پیپرلیس ہوگا۔
25 یونیورسٹیز کا ڈیٹا براہِ راست بلاک چین میں شامل ہوگا
وہ 25 یونیورسٹیاں جن میں ERP سسٹم مکمل طور پر نافذ ہے، اُن کے طلبہ کا ڈیٹا خودکار طریقے سے ایچ ای سی بلاک چین سے منسلک ہوجائے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ:
ایسے طلبہ کو کسی قسم کی دستاویز یا درخواست جمع نہیں کرنی پڑے گی۔
گریجویشن ہوتے ہی ان کی ڈگری بلاک چین میں شامل ہوجائے گی۔
تصدیق شدہ ڈگری ایچ ای سی پورٹل سے فوری دستیاب ہوگی۔
باقی یونیورسٹیوں کے طلبہ کے لیے آن لائن اپلوڈنگ
وہ ادارے جن میں ERP سسٹم موجود نہیں:
طلبہ اپنی ڈگریاں اور ٹرانسکرپٹس آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرائیں گے۔
متعلقہ یونیورسٹی انہیں اپنے ڈیش بورڈ سے ویری فائی کرے گی۔
تصدیق کے بعد یہ ریکارڈ بھی بلاک چین سسٹم میں شامل کردیا جائے گا۔
مکمل طور پر چھڑ چھاڑ سے محفوظ، انسٹنٹ ویریفیکیشن
نئے نظام میں:
تمام ریکارڈ بلاک چین پر ٹیمپر پروف ہوگا۔
سرکاری محکمے، وزارتِ خارجہ، سفارتخانے، اور نجی ادارے فوری طور پر ڈگری کی تصدیق کرسکیں گے۔
کسی قسم کی مہر، اسٹیمپ یا فائل کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
یہ تبدیلی پاکستان کے تعلیمی نظام میں ایک بڑا تکنیکی انقلاب تصور کی جا رہی ہے، جس سے ڈگری جعلی ہونے کے خدشات تقریباً ختم ہو جائیں گے اور درخواست گزاروں کے وقت و پیسے کی واضح بچت ہوگی
