بھارتی موسیقی کے عالمی شہرت یافتہ کمپوزر اے آر رحمان نے حالیہ گفتگو میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی، اصولوں اور نظریات پر کھل کر بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں گزشتہ آٹھ سال سے بالی ووڈ میں کام کی پیشکش نہیں ملی، تاہم وہ اس صورتحال پر شکوہ کرنے کے بجائے اسے اپنے اصولی مؤقف کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔
اے آر رحمان کے مطابق وہ کبھی بھی ایسے منصوبوں کا حصہ نہیں بنے جو منفی سوچ، نفرت یا پروپیگنڈا کو فروغ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موسیقی ان کے نزدیک صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ محبت، ہم آہنگی اور انسانیت کا پیغام دینے کا وسیلہ ہے، اسی لیے وہ ایسی فلموں سے خود کو دور رکھتے ہیں جو معاشرے میں تقسیم پیدا کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی فلم یا منصوبے کا مقصد نفرت، تعصب یا کسی مخصوص نظریے کو مسلط کرنا ہو تو وہ اس میں کام کرنے سے انکار کر دیتے ہیں، چاہے اس کے بدلے انہیں کتنا ہی بڑا پلیٹ فارم کیوں نہ ملے۔ اے آر رحمان کے مطابق فنکار کی اصل پہچان اس کے اصول اور اس کی سوچ ہوتی ہے، نہ کہ صرف شہرت یا دولت۔
اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے عظیم پاکستانی گلوکار نصرت فتح علی خان کا ذکر بھی نہایت عقیدت سے کیا۔ اے آر رحمان نے کہا کہ نصرت فتح علی خان سے ملاقات ان کی زندگی کی ایک بڑی منزل تھی۔ ان کے بقول نصرت فتح علی خان کی موسیقی نے نہ صرف انہیں متاثر کیا بلکہ روحانی طور پر بھی ان کی تربیت کی۔
اے آر رحمان کا کہنا تھا کہ نصرت فتح علی خان کی آواز اور فن سرحدوں سے بالاتر ہے اور وہ آج بھی دنیا بھر کے موسیقاروں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کے مطابق اگر انہیں زندگی میں کسی ایک کامیابی پر فخر ہے تو وہ یہی ہے کہ انہیں نصرت فتح علی خان کے ساتھ وقت گزارنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بالی ووڈ میں مواد، نظریات اور تخلیقی آزادی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اے آر رحمان کا مؤقف اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فنکار کا اصل مقام اس کے کردار، اصول اور سچائی سے جڑا ہوتا ہے، نہ کہ صرف فلمی اسکرین پر نظر آنے سے۔
ان کا یہ دو ٹوک پیغام نوجوان فنکاروں کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ وقتی فائدے کے بجائے طویل المدتی وقار اور اصولوں کو ترجیح دینا ہی اصل کامیابی ہے۔
