رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر میں عوام کی نظریں چاند دیکھنے اور رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی عوام میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ آیا پورے ملک میں ایک ہی دن روزہ رکھا جائے گا یا مختلف علاقوں میں رویت ہلال کے اختلافات سامنے آئیں گے۔ اسی تناظر میں چیرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کا حالیہ بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سال ملک بھر میں ایک ہی دن روزہ شروع ہونے کا امکان ہے۔
مولانا عبدالخبیر آزاد نے اپنے پیغام میں کہا کہ رویت ہلال کمیٹی کا مقصد ہمیشہ قومی یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چاند کی شہادت کے حوالے سے جدید سائنسی معلومات اور شرعی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاتا ہے تاکہ پورے ملک میں ایک ہی دن سے رمضان المبارک کا آغاز ممکن ہو سکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سرکاری طور پر جاری ہونے والے اعلان کا انتظار کریں۔
پاکستان میں رمضان کا چاند دیکھنے کا عمل ہمیشہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مختلف علاقوں میں موسم اور جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے چاند نظر آنے کے امکانات مختلف ہوتے ہیں۔ ماضی میں کئی بار ایسا ہوا کہ ملک کے بعض حصوں میں روزہ ایک دن پہلے شروع ہوا جبکہ دیگر علاقوں میں بعد میں۔ اس صورتحال نے نہ صرف مذہبی حلقوں میں بحث کو جنم دیا بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی الجھن پیدا کی۔ تاہم حالیہ برسوں میں رویت ہلال کمیٹی نے علماء، ماہرین فلکیات اور حکومتی اداروں کے تعاون سے اس مسئلے کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فلکیاتی حساب کتاب سے چاند کی پیدائش اور نظر آنے کے امکانات کا اندازہ پہلے سے لگایا جا سکتا ہے، لیکن اسلامی روایات میں چاند دیکھنے کی شہادت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اسی لیے رویت ہلال کمیٹی سائنسی معلومات کو معاون ذریعہ سمجھتی ہے جبکہ حتمی فیصلہ شہادتوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ مولانا عبدالخبیر آزاد نے بھی اس بات پر زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مذہبی اصول ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے نہایت مقدس مہینہ ہے جس میں روحانی تربیت، عبادات اور معاشرتی ہم آہنگی کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ ایک ہی دن روزہ شروع ہونے سے نہ صرف مذہبی اتحاد کو فروغ ملتا ہے بلکہ اجتماعی عبادات اور سماجی سرگرمیوں میں بھی آسانی پیدا ہوتی ہے۔ عوام کی بڑی تعداد اس بات کی خواہاں ہوتی ہے کہ پورے ملک میں ایک ہی دن سے رمضان کا آغاز ہو تاکہ قومی سطح پر یکسانیت قائم رہے۔
چاند دیکھنے کے عمل میں عوام کا کردار بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال مختلف شہروں اور دیہی علاقوں سے چاند دیکھنے کی شہادتیں موصول
