جکارتہ: انڈونیشیا کے صوبہ مغربی سُماترا میں ایک بڑی شاہراہ اچانک زمین میں دھنس گئی، جس کے نتیجے میں ایک وسیع و عریض سنک ہول بن گیا۔ واقعہ حالیہ شدید بارشوں، فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈز کے باعث زمین کی کمزوری کے نتیجے میں پیش آیا، جس نے شاہراہ کے 20 سے 30 میٹر حصے کو مکمل طور پر نگل لیا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑک میں پہلے ہلکی دراڑیں پڑتی ہیں جو چند ہی لمحوں میں پھیل کر خطرناک حد تک بڑی ہو جاتی ہیں۔ کچھ ہی لمحوں میں پوری سڑک ٹکڑوں میں ٹوٹ کر نیچے دھنسنے لگتی ہے۔ موٹر سائیکل سوار اور کاروں میں بیٹھے لوگ گھبرا کر جان بچانے کے لیے بھاگتے نظر آئے۔
واقعے کے عینی شاہد نے بتایا کہ “یہ کسی معجزے سے کم نہیں کہ کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔” صرف 30 سے 40 سیکنڈ میں پوری شاہراہ کا حصہ دھنس کر مٹی اور ملبے سے بھرے ایک بڑے گڑھے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ ٹوئن بریجز کے قریب پیش آیا، جہاں لینڈ سلائیڈ نے سڑک کو مکمل طور پر کاٹ دیا۔ ایک مقامی فرد کا کہنا تھا، “شروع میں کسی کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ ہو کیا رہا ہے۔”
500 ملی میٹر سے زائد بارش، غیر مستحکم مٹی اور مشکل ریسکیو آپریشن
رپورٹس کے مطابق صرف چند دنوں میں 500 ملی میٹر سے زائد بارشوں نے پہاڑی ڈھلوان کو مکمل طور پر سیراب کر دیا، جس سے مٹی کمزور ہو کر بہہ گئی اور اس کے ساتھ ہی شاہراہ یکدم بیٹھ گئی۔ علاقے میں تقریباً 1.5 میٹر تک گاڑھی مٹی جمع ہے جس کے باعث ریسکیو اور امدادی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
خطے میں شدید بارشیں اور سمندری طوفان — لاکھوں افراد متاثر
بھاری مون سون بارشیں اور سائیکلون سینیار تھائی لینڈ سمیت خطے کے دیگر ممالک کو بھی شدید متاثر کر رہے ہیں۔
دی گارڈین* کے مطابق، تھائی لینڈ کے 12 صوبے متاثر ہوئے اور 32 لاکھ افراد مشکلات کا شکار ہیں، جن میں سے 10 لاکھ کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق:
کم از کم 185 افراد ہلاک
367 لاپتہ
40 لاکھ سے زائد متاثر
2 لاکھ 19 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر
سیلاب اور لینڈ سلائیڈز میں، جنگلات کی کٹائی بھی اہم وجہ
ماہرین کے مطابق انڈونیشیا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈز کی شدت صرف موسمی حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر جنگلات کی تباہی بھی اس کا بڑا سبب ہے۔ انڈونیشیا ہر سال دنیا میں سب سے زیادہ جنگلات کھونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں کھدائی، پام آئل فارمز اور آگ لگنے کے واقعات کے باعث جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
2024 میں 2 لاکھ 40 ہزار ہیکٹر سے زائد پرائمری جنگلات ختم ہوئے۔
گرین پیس انڈونیشیا کے فاریسٹ کیمپین کے سربراہ کیکی تاؤفک نے کہا:
“جنگلات کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی فلیش فلڈز میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔”
