Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

کمیٹی اجلاس میں موبائل فونز پر ‘پی ٹی اے ٹیکس’ کا معاملہ— تفصیل سامنے آگئی

کمیٹی اجلاس میں موبائل فونز پر ‘پی ٹی اے ٹیکس’ کا معاملہ— تفصیل سامنے آگئی

اسلام آباد — قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس جمعرات کے روز اس بحث کے ساتھ شروع ہوا کہ پاکستان آنے والے شہریوں، خصوصاً اوورسیز پاکستانیوں کے لائے گئے موبائل فونز پر کس قدر بھاری ٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔ کمیٹی میں اس مسئلے کو ایم این اے علی قاسم گلانی نے اٹھایا، جنہوں نے موبائل ڈیوائس ٹیکسیشن کے موجودہ نظام کو ’’غیر منصفانہ‘‘ اور ’’عوام دشمن‘‘ قرار دیا۔

اوورسیز پاکستانیوں کی مشکلات— “اپنا ہی فون واپس لا کر ٹیکس دو”

علی گلانی نے اجلاس میں بتایا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی جب وطن واپس آتے ہیں تو:

وہ موبائل فون جو وہ پہلے سے استعمال کر رہے ہوتے ہیں، اس پر بھی انہیں نیا ٹیکس دینا پڑتا ہے

کوئی بھی پاکستانی ایک بھی موبائل فون بغیر ٹیکس کے پاکستان نہیں لا سکتا

اس صورتحال کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو تکلیف اور غیر ضروری خرچ برداشت کرنا پڑ رہا ہے

انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف اوورسیز پاکستانیوں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں ہر وہ شخص متاثر ہے جو بیرون ملک سے موبائل فون منگواتا یا لاتا ہے۔

“چھ سال پرانے فون پر بھی 75 ہزار ٹیکس” — نظام کی سنگینی واضح

علی گلانی نے اس موقع پر مثال دیتے ہوئے کہا کہ:

“ایک چھ سال پرانا آئی فون 12 بھی پاکستان میں لانے پر 75 ہزار روپے ٹیکس دینا پڑتا ہے۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ضروری ٹیکسوں کی وجہ سے لوگ بڑے پیمانے پر گری مارکیٹ کا رخ کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں:

صارفین دو فون رکھنے پر مجبور ہو رہے ہیں — ایک پی ٹی اے رجسٹرڈ اور ایک نان پی ٹی اے

درآمدی فونز کی قیمتیں مصنوعی طور پر بڑھ رہی ہیں

سرکاری محاصل کی بجائے پیسہ غیر قانونی کاروبار میں جا رہا ہے

PTA نے ذمہ داری FBR پر ڈال دی

کمیٹی کے سامنے بریفنگ دیتے ہوئے پی ٹی اے چیئرمین نے واضح کیا کہ:

“تمام ٹیکس ایف بی آر لگاتا ہے، پی ٹی اے کا ٹیکس سے کوئی تعلق نہیں۔”

پی ٹی اے صرف رجسٹریشن کا نظام چلاتا ہے

چیئرمین نے کہا کہ کم ٹیکس بہتر ہیں کیونکہ زیادہ ٹیکسیشن سے صارفین پریشانی کا شکار ہوتے ہیں

یہ بیان سن کر کمیٹی کو معلوم ہوا کہ اصل فیصلہ ساز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) ہے، نہ کہ پی ٹی اے۔

FBR چیئرمین کی غیر حاضری — معاملہ مؤخر

کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر نے کہا کہ چونکہ:

ایف بی آر چیئرمین اجلاس میں موجود نہیں تھے

ٹیکس پالیسی براہِ راست ایف بی آر کے دائرہ کار میں آتی ہے

اس لیے معاملے پر حتمی بات کرنے کے بجائے اسے اگلی میٹنگ تک مؤخر کر دیا گیا۔

غیر رسمی گفتگو — PTA چیئرمین کا اہم اشارہ

پارلیمنٹ ہاؤس میں غیر رسمی گفتگو کے دوران پی ٹی اے چیئرمین نے صحافیوں کو بتایا:

حکومت ٹیکس کم کرے تو پی ٹی اے کو کوئی اعتراض نہیں

پرانے فونز پر کم ٹیکس لگانے کی تجویز معقول ہے

فیصلے مکمل طور پر وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر کرتے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ٹیکس پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

Analysis: کیا ٹیکس کم ہونے والے ہیں؟

اگرچہ کمیٹی نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا، مگر چند اشارے واضح ہیں:

حکومتی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے

پارلیمنٹ میں بڑی تعداد اس ٹیکس کے خلاف ہے

پی ٹی اے بھی کم ٹیکس کے حق میں ہے

بے ضابطگیوں اور گری مارکیٹ کے پھیلاؤ نے حکومت کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ اجلاس میں اس پالیسی میں واضح نرمی یا کسی بڑے اعلان کی طرف پیش رفت ہو سکتی ہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates