Share This Article
ٹرمپ انتظامیہ نے رضاکارانہ طور پر امریکا چھوڑنے پر آمادہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے دی جانے والی ترغیب میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے مطابق اب یہ رقم 3 ہزار ڈالر کر دی گئی ہے، جو پہلے دی جانے والی رقم سے تین گنا زیادہ ہے۔
یہ پیشکش اُن افراد کے لیے ہے جو امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور سال کے اختتام تک CBP Home ایپ کے ذریعے خود سے ملک چھوڑنے (سیلف ڈی پورٹیشن) کے لیے رجسٹریشن کرواتے ہیں۔ نقد رقم کے علاوہ، حکومت تارکینِ وطن کو ان کے آبائی ملک تک مفت فضائی ٹکٹ بھی فراہم کرے گی۔
اس مقصد کے لیے رواں سال کے آغاز میں CBP Home نامی ایک نئی موبائل ایپ متعارف کرائی گئی تھی، جس کا مقصد رضاکارانہ واپسی کے عمل کو آسان اور تیز بنانا ہے۔
حکام نے اس پروگرام کو ایک موقع کے ساتھ ساتھ انتباہ بھی قرار دیا ہے۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے غیر قانونی تارکینِ وطن پر زور دیا ہے کہ وہ اس پیشکش سے فائدہ اٹھائیں جب تک یہ دستیاب ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو افراد رضاکارانہ طور پر امریکا نہیں چھوڑیں گے، انہیں گرفتار کر کے زبردستی ملک بدر کیا جائے گا۔ ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد پر امریکا میں دوبارہ داخلے پر مستقل پابندی بھی عائد کی جائے گی۔
جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی کو اپنی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے تاریخی سطح پر ڈی پورٹیشنز کا وعدہ کیا تھا۔
اگرچہ انتظامیہ نے سالانہ 10 لاکھ افراد کو ملک بدر کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم اب تک اس سال تقریباً 6 لاکھ 22 ہزار افراد کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب، ٹرمپ انتظامیہ 2026 میں امیگریشن کریک ڈاؤن کو مزید سخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس مقصد کے لیے اربوں ڈالر کی اضافی فنڈنگ متوقع ہے۔
مجوزہ اقدامات میں ہزاروں نئے امیگریشن اہلکاروں کی بھرتی، حراستی مراکز کی توسیع، اور نجی کمپنیوں کے ساتھ تعاون شامل ہے تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔
