جوا ایپ کیس میں حالیہ رہائی کے بعد یوٹیوبر ڈکی بھائی کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کے بارے میں ان کے قریبی دوست اور بزنس پارٹنر اقرا کنول اور اریب پرویز نے پہلی بار کھل کر بات کی ہے۔
اقرا کنول نے بتایا کہ عام لوگ اصل صورتحال سے واقف نہیں۔
انہوں نے کہا:
“ہم نے ڈکی اور عروب دونوں سے بات کی ہے، وہ اس وقت ایسی ذہنی کیفیت میں نہیں ہیں کہ لوگوں سے مل سکیں۔ انہیں وقت چاہیے۔ کوئی معصوم انسان اتنے دن جیل میں گزار کر نارمل واپس نہیں آسکتا۔”
اریب پرویز نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا کہ آزمائش کا سب سے بڑا بوجھ ڈکی نے اٹھایا۔
“ہم جو بھی کہیں — ’ہم نے کیا‘ یا ’ہم نے کوشش کی‘ — اس کی حقیقت وہ نہیں جو ڈکی نے بذاتِ خود جھیلا۔ جیل کے سخت ترین لمحات ڈکی نے اکیلے برداشت کیے۔ ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ انہوں نے کیا صدمہ اٹھایا۔”
ان کے مطابق عروب جتوئی بھی چاہتی ہیں کہ ڈکی کچھ وقت صرف گھر والوں کے ساتھ گزاریں۔
“وہ کسی سے ملنے کے موڈ میں نہیں۔ جب وہ بہتر ہوجائیں گے، تب سب بیٹھ کر بات کریں گے۔ ابھی انہیں سکون، تنہائی اور وقت چاہیے۔”
ڈکی بھائی کے مداحوں نے سوشل میڈیا پر شدید تشویش اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ تازہ معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ جیل کے دنوں نے ڈکی پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔
مداحوں نے ڈکی اور عروب دونوں کے لیے صحتیابی، ذہنی سکون اور بہتر مستقبل کی دعا بھی کی۔
