Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ایران کا اسرائیل پر حملوں کی 37 ویںلہر شروع کرنے کا اعلان!

تہران: ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسدارانِ انقلاب) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے “آپریشن وعدہ صادق 4” کے تحت امریکا اور اسرائیل سے متعلق اہداف کے خلاف حملوں کی ایک نئی اور بڑی لہر شروع کر دی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں کی گئی ہے اور اس کا مقصد ایران کے خلاف ہونے والی حالیہ فوجی کارروائیوں کا جواب دینا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کیے گئے باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کی 37ویں لہر کے دوران تقریباً تین گھنٹوں تک مسلسل میزائل حملے کیے گئے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس دوران متعدد بیلسٹک میزائل مختلف اہداف کی طرف فائر کیے گئے، جن کا مقصد خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔

بیان کے مطابق ان حملوں میں عراق کے شہر اربیل میں موجود بعض فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اربیل میں وہ مقامات ہدف بنائے گئے جہاں مبینہ طور پر غیر ملکی فوجی سرگرمیاں جاری تھیں۔ اس کے علاوہ بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق اسرائیل کے شہر تل ابیب میں واقع بعض فوجی مراکز کو بھی میزائل حملوں کا ہدف بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ جنوبی تل ابیب میں واقع ایک اہم سیٹلائٹ مواصلاتی مرکز کو دوسری مرتبہ نشانہ بنایا گیا، جو اسرائیلی دفاعی اور انٹیلی جنس نظام کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایرانی بیان میں کہا گیا کہ اس مرکز پر حملہ اسرائیلی عسکری رابطہ نظام کو متاثر کرنے کی کوشش کا حصہ تھا۔

اس کے علاوہ ایران نے مقبوضہ بندرگاہ حیفہ پر بھی میزائل فائر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حیفہ اسرائیل کی اہم بندرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور وہاں مختلف صنعتی اور عسکری تنصیبات موجود ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق اس بندرگاہ کو نشانہ بنانے کا مقصد اسرائیل کے بحری اور لاجسٹک نظام کو دباؤ میں لانا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس کارروائی میں ایران کے جدید میزائل سسٹمز استعمال کیے گئے جن میں خیبر شکن، قدر اور خرم شہر نامی بیلسٹک میزائل شامل تھے۔ ایرانی بیان کے مطابق یہ میزائل جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور ان میں متعدد وارہیڈز نصب کیے جا سکتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ بیک وقت کئی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ قدر میزائل کے وارہیڈ کا وزن تقریباً ایک ٹن تک ہوتا ہے، جو اسے ایک انتہائی طاقتور ہتھیار بناتا ہے۔ اسی طرح خیبر شکن میزائل کو بھی ایران کے جدید ترین بیلسٹک میزائلوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو طویل فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ میزائل حملے انتہائی منظم حکمت عملی کے تحت کیے گئے تاکہ دشمن کے دفاعی نظام کو چکمہ دیا جا سکے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حملوں کی منصوبہ بندی اس طرح کی گئی کہ میزائل مختلف سمتوں سے اپنے اہداف کی طرف بڑھیں، جس سے انہیں روکنا مشکل ہو جائے۔

ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں کا مقصد صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنانا تھا اور اس میں شہری علاقوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا گیا۔ تاہم آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 دراصل گزشتہ ماہ اس وقت شروع کیا گیا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مبینہ طور پر فوجی کارروائیاں کیں۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ آپریشن ان کارروائیوں کے جواب میں شروع کیا گیا اور اس کا مقصد ایران کی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ آپریشن مرحلہ وار جاری ہے اور اس کی مختلف لہریں مختلف اوقات میں شروع کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ایران کو درپیش خطرات ختم نہیں ہوتے، اس قسم کی دفاعی کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔

دوسری جانب خطے میں اس صورتحال کے باعث کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک اور بین الاقوامی مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو یہ تنازعہ پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ کئی ممالک نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت خطے میں صورتحال انتہائی حساس ہے اور کسی بھی نئی کارروائی سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے میزائل پروگرام کو خطے میں ایک اہم عسکری عنصر سمجھا جاتا ہے۔ ایران گزشتہ کئی برسوں سے اپنے بیلسٹک میزائل نظام کو بہتر بنانے پر کام کر رہا ہے اور اس کے پاس مختلف رینج کے میزائل موجود ہیں۔

اسی طرح اسرائیل اور امریکا بھی خطے میں مضبوط فوجی موجودگی رکھتے ہیں اور ان کے پاس جدید دفاعی نظام موجود ہیں، جن میں میزائل ڈیفنس سسٹمز بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں ہونے والی ہر فوجی پیش رفت کو عالمی سطح پر انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں انتہائی اہم ہیں تاکہ کسی بڑے فوجی تصادم سے بچا جا سکے۔ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور عالمی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

فی الحال ایران کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی آئندہ لہروں کے بارے میں وقتاً فوقتاً آگاہ کیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates