Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ایرانی وزیرِ دفاع کا سخت مؤقف: کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا

ایرانی وزیرِ دفاع کا سخت مؤقف: کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا

ایران کے وزیرِ دفاع نے واضح اور سخت الفاظ میں کہا ہے کہ ایران اپنے خلاف کسی بھی حملے کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا اور کسی کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ دھمکیوں کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈالے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی جارحیت کا جواب دینے میں ہچکچاہٹ نہیں دکھائی جائے گی۔


امریکی اڈے اور سہولت کار ممالک نشانے پر

ایرانی وزیرِ دفاع کے مطابق اگر ایران کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے اور وہ ممالک جو واشنگٹن کے اقدامات میں سہولت کاری کریں گے، ایران کے لیے جائز اہداف تصور کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی ممکنہ تصادم میں صرف دفاع تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دشمن کو اس کے اقدامات کی قیمت چکانا پڑے گی۔


دفاعی صلاحیت میں نمایاں بہتری کا دعویٰ

ایرانی وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ حالیہ برسوں میں کیے گئے اقدامات کے باعث ایران کی دفاعی صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ جنگ کے مقابلے میں اب ایران کو بہتر عسکری تیاری، جدید صلاحیتیں اور مؤثر دفاعی نظام حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا ہے تاکہ کسی بھی خطرے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔


خطے میں بڑھتی کشیدگی

ایرانی وزیرِ دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور مختلف محاذوں پر غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ تصادم نہیں چاہتا، لیکن اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو جواب سخت ہوگا۔


نتیجہ

ایرانی وزیرِ دفاع کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران موجودہ حالات میں کسی دباؤ کو قبول کرنے کے موڈ میں نہیں اور اپنی سلامتی کے معاملے پر انتہائی سنجیدہ مؤقف رکھتا ہے۔ ان اعلانات نے خطے میں موجود کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جہاں آئندہ دنوں میں سفارتی اور عسکری پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

Leave a comment

Sign Up to Our Newsletter

Be the first to know the latest updates