سماجی اور سیاسی منظرنامے میں بعض اوقات فیصلے چند لوگوں کے بند کمروں تک محدود رہ جاتے ہیں، اور پھر انہیں عام لوگوں پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایسے ہی ایک بیان میں سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ بہت سے فیصلے اندرونی سطح پر کیے جاتے ہیں اور جب زبردستی یا دباؤ کے ذریعے عمل درآمد کروایا جاتا ہے، تو بعض اوقات وہ لوگ جو یہ فیصلے کرتے ہیں پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ اگلے اتوار کو ایک جرگہ بلانے جا رہے ہیں، جس میں متعلقہ 13 افراد سے یہ پوچھا جائے گا کہ کیا وہ خود رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کر رہے ہیں یا نہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس کے بعد ساری حقیقت اور تمام حقائق سامنے آئیں گے، اور عوام کو یہ جاننے کا موقع ملے گا کہ فیصلے کس طرح اور کس مقصد کے لیے کیے گئے ہیں۔
یہ بیان ایک اہم پہلو کی عکاسی کرتا ہے: فیصلہ سازی میں شفافیت اور عوامی مشاورت کی کمی، اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عوامی عدم اعتماد۔ جب فیصلے صرف چند لوگوں کے دائرے میں رہ جائیں اور عوام پر مسلط کیے جائیں، تو اس سے نہ صرف بے یقینی بڑھتی ہے بلکہ سماجی تناؤ بھی پیدا ہوتا ہے۔
سہیل آفریدی کا اقدام، یعنی جرگہ بلا کر متعلقہ افراد سے حقائق معلوم کرنا اور پھر سب کچھ عوام کے سامنے لانا، ایک طرح کا شفافیت کا عمل ہے۔ یہ نہ صرف عوام کو اعتماد دلاتا ہے بلکہ فیصلہ سازی کے عمل کو بھی جوابدہ بناتا ہے۔
آخرکار، اس بیان سے یہ سبق ملتا ہے کہ سماجی اور سیاسی مسائل کو صرف طاقت یا دباؤ سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کی شمولیت، کھلی بات چیت اور جوابدہی ہی ایسے مسائل کا حقیقی حل فراہم کر سکتی ہے۔
