میکسیکو سٹی میں اس وقت افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ایک عوامی تقریب کے دوران ایک شخص نے ملک کی صدر کلاڈیا شین بام کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے کی کوشش کی۔ اس شخص نے صدر کے کندھے پر بازو رکھا، کمر اور سینے کو چھوا اور پھر گردن پر بوسہ دینے کی کوشش کی، جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ واقعہ صدارتی محل کے قریب اس وقت پیش آیا جب صدر شین بام اپنے حامیوں سے ملاقات کر رہی تھیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتبہ شخص بظاہر منشیات یا شراب کے زیرِ اثر دکھائی دے رہا تھا۔
باوجود اس ناخوشگوار صورتحال کے، صدر شین بام نے تحمل کا مظاہرہ کیا، اس شخص سے مہذب انداز میں گفتگو کی اور تصویر کھنچوانے کی اجازت بھی دی۔ جاتے ہوئے انہوں نے اس کی پشت تھپتھپائی۔
واقعے کے بعد میکسیکو کی وزارتِ خواتین اور دیگر حکومتی اداروں نے سخت ردِعمل دیا۔ وزیر ستلالی ہرنانڈیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا:
“ہم صدر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ایسے رویّے جو خواتین کی ذاتی حدود کی خلاف ورزی کو معمول بناتے ہیں، ان کا خاتمہ ضروری ہے۔”
یہ واقعہ میکسیکو میں خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی ہراسانی کے سنگین مسئلے کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔ یو این ویمن کے مطابق، ملک میں 15 سال یا اس سے زائد عمر کی 70 فیصد خواتین اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی جنسی ہراسانی کا شکار ہو چکی ہیں۔
