جامعہ اشرفیہ کے مہتمم مولانا فضل الرحیم اشرفی کا انتقال: علم و خدمت کا ایک روشن باب اختتام پذیر
علمائے کرام کی زندگی محض ذاتی سفر نہیں ہوتی بلکہ وہ نسلوں کی فکری، دینی اور اخلاقی تربیت کا ذریعہ بنتی ہے۔ جامعہ اشرفیہ کے مہتمم، مولانا فضل الرحیم اشرفی کے انتقال کی خبر نے علمی و دینی حلقوں کو گہرے رنج اور افسوس میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا دنیا سے رخصت ہونا ایک ایسے عہد کے اختتام کے مترادف ہے جس میں علم، اخلاص اور خدمتِ دین نمایاں اوصاف تھے۔
علمی و دینی خدمات
مولانا فضل الرحیم اشرفی نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ دینی تعلیم، تدریس اور ادارہ جاتی نظم و نسق کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ جامعہ اشرفیہ جیسے معتبر اور قدیم دینی ادارے کی مہتممی ایک بڑی ذمہ داری ہے، جسے انہوں نے دیانت، بردباری اور حکمت کے ساتھ نبھایا۔ ان کے دور میں ادارے کی علمی شناخت، نظم و ضبط اور دینی وقار کو خاص اہمیت حاصل رہی۔
طلبہ اور اساتذہ کے لیے رہنمائی
وہ محض ایک منتظم نہیں بلکہ ایک مربی اور رہنما بھی تھے۔ طلبہ کے لیے شفقت، اساتذہ کے لیے احترام اور ادارے کے لیے غیر متزلزل وابستگی ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھی۔ ان کی گفتگو میں نرمی اور فیصلوں میں توازن پایا جاتا تھا، جو انہیں ایک قابلِ اعتماد دینی قائد بناتا تھا۔
سادگی اور اخلاص
مولانا فضل الرحیم اشرفی کی زندگی سادگی، تقویٰ اور اخلاص کی عملی تصویر تھی۔ وہ شہرت یا نمود و نمائش کے بجائے خاموش خدمت پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی یہی خاموش محنت ان کے لیے صدقۂ جاریہ بن گئی، جو ان شاء اللہ آنے والی نسلوں تک جاری رہے گی۔
علمی خلا
ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ فوری طور پر پُر ہونا مشکل ہے۔ ایسے علما جو علم اور انتظامی بصیرت دونوں کا امتزاج ہوں، کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم ان کی تربیت یافتہ نسل اور ادارہ جاتی نظام ان کے مشن کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے گا۔
دعا اور پیغام
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور لواحقین، شاگردوں اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
مولانا فضل الرحیم اشرفی کا نام ان شاء اللہ علم و خدمتِ دین کی تاریخ میں ہمیشہ احترام سے لیا جاتا رہے گا۔
