پاکستان کی قدیم ترین اور سب سے بڑی بریوری مری بریوری نے تقریباً پچاس برس بعد اپنا برآمدی لائسنس حاصل کر لیا ہے، جسے کمپنی کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ 1860 میں قائم ہونے والی یہ بریوری طویل عرصے سے سخت قوانین اور مخالفت کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
برآمدی لائسنس کی منظوری کے بعد مری بریوری نے بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مصنوعات متعارف کرانے اور کاروبار کو وسعت دینے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اسفندیار بھنڈارا نے اس کامیابی کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ سابقہ نسلوں کی دہائیوں پر محیط جدوجہد اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی نہ صرف ادارے بلکہ پاکستان کی صنعت کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے۔
مری بریوری سالانہ 100 ملین ڈالر سے زائد آمدن حاصل کرتی ہے، اور انتظامیہ کے مطابق برآمدات کی اجازت ملنے سے کاروباری ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے اور عالمی سطح پر کمپنی کو شناخت حاصل ہو گی۔
یہ پیش رفت پاکستان کی صنعتی تاریخ میں ایک منفرد مثال سمجھی جا رہی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مستقل مزاجی اور قانونی جدوجہد کے ذریعے ترقی کی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں۔
