وفاقی ٹیکس محتسب (FTO) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) میں ایک نیا اسکینڈل بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں ایف بی آر کی مختلف فیلڈ فارمیشنز نے طے شدہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹیکس دہندگان کو دستی طور پر رجسٹر کیا۔
وفاقی ٹیکس محتسب نے اس سنگین بدانتظامی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ دستی رجسٹریشن کا یہ عمل قومی خزانے کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس معاملے کی مکمل تحقیقات ناگزیر ہیں۔ ایف ٹی او کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ان رجسٹریشنز میں ایف بی آر کی اس لازمی شرط کو نظرانداز کیا گیا جس کے تحت ٹیکس دہندگان کی رجسٹریشن تصدیق شدہ سم نمبر سے منسلک ہونا ضروری ہے۔
حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ عمل فیڈرل ٹیکس محتسب آرڈیننس 2000 کے سیکشن 2(3)(i) کے تحت بدانتظامی کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ یہ قانون، قواعد اور طے شدہ طریقہ کار کے خلاف ہے۔
وفاقی ٹیکس محتسب نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈی جی ڈی ٹی اینڈ آئی ٹی ایف بی آر اور پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (PRAL) کے ذریعے حالیہ عرصے میں کی گئی تمام دستی رجسٹریشنز کا جامع ڈیٹا آڈٹ کرائے تاکہ ممکنہ ریونیو لیکیج کو روکا جا سکے۔ ساتھ ہی، ایس او پیز کو نظرانداز کرنے والے افسران کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
نمونے کے طور پر ریجنل ٹیکس آفس (RTO) ملتان کے ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹر نے نومبر 2025 میں کی گئی 65 دستی رجسٹریشنز کی فہرست فراہم کی، جن کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ یہ نیشنل ٹیکس نمبر (NTN) محکمانہ افسران کے لاگ انز کے ذریعے جاری کیے گئے، جبکہ نئی رجسٹریشن کے لیے جاری کردہ تازہ ایس او پیز پر عمل نہیں کیا گیا۔
یہ شکایت ایک ٹیکس پریکٹیشنر کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں بتایا گیا کہ ایف بی آر نے حال ہی میں نیا ٹیکس دہندہ بننے کے لیے سی این آئی سی سے منسلک موبائل نمبر کے ذریعے تصدیق لازمی قرار دی تھی، تاہم بعض افراد اس نظام کو بائی پاس کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ کئی کیسز میں فارم 181 پر رجسٹریشن کا میڈیم “Manual” درج تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ این ٹی این آن لائن سسٹم کے بجائے دستی طریقے سے جاری کیے گئے۔ مزید انکشاف ہوا کہ بعض عناصر اس خامی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فی کیس ہزاروں روپے لے کر بغیر سم ویری فکیشن کے این ٹی این بنا رہے ہیں۔
وفاقی ٹیکس محتسب نے کہا ہے کہ یہ عمل نہ صرف ایف بی آر کے ڈیجیٹل اصلاحاتی نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کر رہا ہے۔ ایف ٹی او نے ایف بی آر پر زور دیا ہے کہ فوری طور پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور سسٹم میں موجود تمام خامیوں کو بند کیا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کی غیر قانونی رجسٹریشنز ممکن نہ ہوں۔
