اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں گاڑیوں کی نگرانی اور سیکیورٹی مزید سخت کرنے کے لیے ای ٹیگ (m-tag) سسٹم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ حکام نے شہر کے اہم داخلی اور مرکزی مقامات پر m-tag ریڈرز اور جدید نگرانی کیمرے نصب کر دیے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق 11 مقامات پر m-tag ریڈرز جبکہ 14 پوائنٹس پر سیف سٹی اتھارٹی کی نگرانی میں کیمرے فعال کر دیے گئے ہیں۔ یہ نظام کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کے تعاون سے جاری کردہ الیکٹرانک ٹیگز کو پڑھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اہم مقامات پر تنصیب
حکام کا کہنا ہے کہ یہ جدید آلات فیض آباد، ڈی چوک، زیرو پوائنٹ، نائنتھ ایونیو، بری امام، جی-14 این فائیو انٹری، میریٹ ہوٹل، نادرا ہیڈکوارٹرز اور آئی جے پی روڈ کے اطراف نصب کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ دفترِ خارجہ، بھارہ کہو پل اور ای-9 انٹری پر بھی اضافی کیمرے لگائے گئے ہیں۔
تمام ریڈرز اور کیمرے نئی تنصیب شدہ پولز پر لگائے گئے ہیں اور براہِ راست سیف سٹی اتھارٹی سے منسلک ہیں۔ یہ نظام ایک ہی وقت میں گاڑی کی نمبر پلیٹ اور m-tag کو اسکین کرتا ہے۔ نمبر پلیٹ اور ٹیگ میں عدم مطابقت کی صورت میں فوری الرٹ جاری ہو جاتا ہے، جبکہ بغیر ای ٹیگ گاڑیاں بھی شناخت ہو جاتی ہیں۔
سیکیورٹی خدشات کے بعد فیصلہ
حکام کے مطابق یہ اقدام گزشتہ ماہ جوڈیشل کمپلیکس کے قریب ہونے والے خودکش حملے کے بعد جاری کردہ ہدایات کے تحت کیا گیا ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا تھا کہ ای ٹیگ کے بغیر کسی بھی گاڑی کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے بعد ازاں شہر میں چلنے والی تمام گاڑیوں کے لیے ای ٹیگ لازمی قرار دیا تھا۔
روزانہ لاکھوں گاڑیوں کی آمد و رفت
حکام کا اندازہ ہے کہ روزانہ تقریباً پانچ لاکھ گاڑیاں اسلام آباد کے اندر سفر کرتی ہیں، جبکہ راولپنڈی اور دیگر قریبی علاقوں سے ہزاروں گاڑیاں روزانہ شہر میں داخل ہوتی ہیں۔
خودکار بیریئرز کا منصوبہ ترک
قبل ازیں شہر کے داخلی راستوں پر خودکار بیریئرز لگانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، تاہم آزمائشی مرحلے میں شدید ٹریفک جام، خصوصاً اسلام آباد ایکسپریس وے پر، عوامی مشکلات کا سبب بنا۔ حکام نے تسلیم کیا کہ مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک سست ہونے سے شدید بدانتظامی پیدا ہوئی، جس کے بعد یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا۔
ای ٹیگ کیوں ضروری؟
حکام کا کہنا ہے کہ نمبر پلیٹس جعلی بنائی یا تبدیل کی جا سکتی ہیں، مگر اصل m-tag میں گاڑی اور مالک کا مستند ڈیٹا موجود ہوتا ہے جس کی نقل بنانا آسان نہیں۔ اسی وجہ سے ای ٹیگ سسٹم کو طویل المدتی نگرانی اور سیکیورٹی منصوبہ بندی کے لیے ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں ای ٹیگ کا نظام پہلی بار 2013 میں متعارف کرایا گیا تھا، جسے بعد ازاں سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت RFID ٹیکنالوجی کے ساتھ مزید بہتر بنایا گیا۔
